Wednesday, January 7, 2015

ادب اور فحش نگاری۔

حال ہی میں فیس بک پر ایک ادبی فورم ترتیب دیا گیا ہے جس کے اغراض و مقاصد میں ایک ہی بات درج ہے کہ یہ ادبی فورم ،ادب میں بڑھتی ہوئی فحش نگاری، واہیات گوئی اور بے ہودگی کی روک تھام کی ایک کاوش کے طور پر “صاف ستھرے“ ادب کی تخلیق کی حوصلہ افزائی کے لئے ترتیب دیا جا رہا ہے۔ اس دعویٰ کو پڑھ کر ہمیں بے اختیار بچپن میں سنی گئی “نبیوں کی کہانیاں“ میں سے ایک کہانی یاد آ گئی ، کہانی کچھ یوں ہے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اللہ تعالی کے سامنے ضد کی کہ مجھے بھی ایک مخلوق تخلیق کرنے کی اجازت دی جائے، ہمارے تصور میں کردار و مکالمے کچھ یوں ابھرتے ہیں کہ اللہ میاں نے مسکرا کر “سوچا“ ہو گا، موسیٰ یہ تمھارے دل میں کیا سودا سما گیا، کہاں تبلیغ اور کہاں تخلیق ، لیکن پھر موسیٰ علیہ السلام کی ضد اور اپنی رحمت و ربوبیت کے ہاتھوں مجبور ہو کر ایک پرندے کی تخلیق کی اجازت دے دی، اب 

ہوا یوں کہ، موسیٰ علیہ السلام نے بال و پر بنائے، چونچ اور پاؤں وغیرہ موزوں کیے اور نقش و نگار وغیرہ سے اپنا “تخلیقی“ شوق پورا کیا لیکن جب اصل مرحلہ یعنی ضروریات و حاجات کا معاملہ آیا تو شرم گاہ بنانے کے معاملے پر آ کر رک گئے بلکے جھینپ گئے ، سارا تخلیقی “شوق“ رفو ہو گیا اور نبوت کی “مجبوریاں“ آڑے آ گئیں۔ ( بعض لوگ کہتے ہیں کہ بھول گئے، حالانکہ اگر ایسا ہوتا تو زیادہ قابل گرفت ہوتا) شرم گاہ بنانا تو دور کی بات شریعت میں تو اُس پر نظر ڈالنا اس کا تصور کرنا بھی گناہ ٹھرا ، قصہ مختصر نبی اللہ نے وہ پرندہ رفع حاجت و تناسل کی ضروریات کو پورا کرنے والے اعضاء کے بغیر ہی اڑا دیا، سُنا ہے وہ پرندہ آج تک منہ سے کھا کر منہ سے ہی اخراج بھی کرتا ہے۔ 

افادی ادب کا وجود مسلمہ ہے اور اس کی ضروریات ایک الگ موضوع ہے لیکن یہ تبلیغی لکھاری اور تبلیغی قاری کی تخلیق و قراءت کا حال بھی بس موسی علیہ السلام کے پرندے جیسا ہی ہے۔

ہمیں آج تک ایک بات سمجھ میں نہیں ائی کہ لوگ “فحش ادب“ کی اصطلاح کیسے اور کیونکر استعمال کر لیتے ہیں، بھئی ادب الگ شے ہے اور فحش نگاری الگ شے۔ ادب میں چاہے جتنا بولڈ موضوع اٹھایا جائے، چاہے جتنا تھیکا اور کھل کے لکھا جائے وہ فحش نگاری کے زمرے میں نہیں آتا کیونکہ جیسے ہی ایک تحریر فحش نگاری کے زمرے میں داخل ہوتی ہے وہ ادب کی کسی بھی قسم سےمتعلق نہیں رہتی۔

مانا کہ یہ ایک معروضی حقیقت نہیں ہے، ایک موضوعی بحث ہے اور فحاشی نگاری ہو یا “صاف ستھرا ادب“ یہ ہر شخص کے لئے ایک ذاتی نوعیت کا اور منفرد معاملہ ہے لیکن یہ بات اتنی بھی تجریدی نہیں ہے۔ ایک “فائن لائن“ سہی لیکن حد فاصل موجود ہے اور بہت واضع ہے۔ آئے دیکھتے ہیں کیسے؛

جنسی اعضاء، کے نام استعمال کرنا اور جنسی عمل کا ذکر کرنا فحش نگاری نہیں ہے نہ مذہب میں ، نہ حکمت میں، نہ قانون میں اور نہ ہی ادب میں مذہب میں جا بجا تفصیلٰا عبادات و معاملات کے احکامات میں جنسی اعضاء و اعمال کا ذکر ہے ، پستانوں کو کیسے پکڑ کر بچے کو دودھ پلانا ہے، زیر ناف طہارت و صفائی کے کیا احکامات ہیں، ہشفہ کو کیسے صاف و مطہر کرنا ہے، حتیٰ کہ دخول و خروجِ عضو اور انزال و اخراج مادہ کے مسائل پر پورے پورے ابواب ہیں لیکن کچھ بھی فحش نہیں ہے کیونکہ بیمار ذہنوں کو تشفی رہتی ہے کہ یہ مذہب کی طرف سے ہے اور اس دیگ میں جو بھی پکا ہے وہ ہلال ہے۔ طب و حکمت میں پورے پورے رسالے جنسی بیماریوں کے اسباب و علل اور جنسی اعضاء کی ساخت، ہجم اور افعال و کردار پر مشتمل ہیں لیکن قابل اعتراض نہیں ہے، قانون سے واقفیت رکھنے والے بخوبی جانتے ہیں کہ لڑای جھگڑے، قتل و اقدام قتل اور ٹریفک حادثات کی ہر پولیس رپورٹ کے ساتھ ایک "عریاں" سکیچ لگا کر جسم کے اُن حصوں کو نشان زدہ کیا جاتا ہے جو کہ متعلقہ معاملے میں متاثر ہوئے ہوں ۔ اب رہ گیا ادب اور خاص طور سے افسانہ تو جب کسی کردار کی جنسی نفسیات کا تذکرہ یا تجزیہ مقصود ہو یا کسی کہانی میں واقعات کے تسلسل یا ارتباط سے نفس مضمون یا کرداروں کی داخلی کیفیت کا بیان مطلوب ہو تو اعضاء و اعمال اور باہمی اختلاط کا ذکر ضروری بلکہ مجبوری بن جاتا ہے ۔ 
مثال کے طور پر ایک خاتون تھیں جن کا خاوند بہت تند خُو، متشدد اور بد گو تھا، وہ اپنی بیوی کے منہ پر اپنی ساس کو غلیظ گالیوں بکنے کا عادی تھا، بعض اوقات تو بات گالیوں سے آگے بڑھ جاتی اور وہ اشاروں کنایوں میں ساس کے ساتھ باقائدہ جنسی عمل کے تکمیل پذیر ہونے کا اظہار کر دیتا۔وہ بیوی کی مسکین سی ماں کے بارے میں جتنا بد زبان تھا اپنی ماں کے بارے میں اتنا ہی حساس اور جذباتی تھا۔ اُس عورت کو اپنے خاوند سے نفرت تھی لیکن خاص طور پر جب وہ اُس سے اپنی جنسی ضرورت پوری کرتا تو وہ اذیت و کراہت محسوس کرتی۔ بیوی بہت بے بس تھی کچھ اپنے میکے کے پس ماندہ ماحول کی وجہ سے اور کچھ اپنی بزدل طبیعت کی وجہ سے( ویسے تہذیبی تربیت کے اثرات سے ہماری اکثر خواتین اسی طرح “بے بس“ ہی ہوتی ہیں۔) وہ بہت عرصہ برداشت کرتی رہی۔

اور پھر نہ جانے کیسے اُس کے ذہن نے ایک کروٹ لی، 

ایک دن جب اُس کا خاوند بہت مدہوشی اور جنون میں اس کے ساتھ جنسی عمل کرنے کی "تیاری" کر رہا تھا اور جیسے ہی اُس نے اُس کا بالائی لباس الگ کر کے اُس کے پستانوں کو چومنا شروع کیا ، بیوی نے دھیرے سے ذکر چھیڑ دیا ، آج میں بازار سے ایک انگیا لائی تھی، پتہ نہیں کیسے سائز غلط نکل آیا ، وہ مجھے کچھ بڑی نکلی لیکن میں نے بھی ضائع نہیں جانے دی، وہ اماں (ساس) کو پوری آ گئی اور میں نے اُن کو ہی دے دی، اماں کا اور میرا دیکھنے میں ایک ہی سائز ہے حتیٰ کہ رنگ اور گولائی بھی ایک ہی طرح کی ہے لیکن بس انگیا کا سائز ان کا تھوڑا بڑا ہے۔

یہ کہانی کا اگلا حصہ بتاتا ہے کہ خاوند کا کیا حال ہوا اور اُس کو کسی درجے کی ذہنی اور جنسی اذیت ملی لیکن کیا یہاں پر اعضاء کے نام ، ساخت اور تذکرے کے بغیر کہانی اپنا مضمون بیان کر سکتی تھی، کیا یہاں اشارے وہ کام کر سکتے تھے جو براہ راست الفاظ نے کیا۔

یہ فحش نگاری نہیں ہے، ہاں اگر بیوی کی نفسیاتی تبدیلی کے اشارے موجود نہ ہوں ، اُس کے انتقام کی رو کہانی میں بہتی ہوئی نظر نہ آئے اور خاوند کو ملنے والی اذیت کا احساس کہانی کے چہرے پر مسکراہٹ بن کر نہ بکھرے تو یہ ایک عامیانہ رسالے کی بے ہودہ لائنز کے سوا کچھ نہ ہو گا۔ 

ردی کا ڈھیر۔



وہ حیرت سے آسمانی صحیفوں، آئین کے پلندوں اور قانون و اخلاق کی کتابوں کے اُس ڈھیر کو دیکھ رہا تھا جسے محفوظ کرنے اور سنبھالے رکھنے کے لئے عجائب گھر کی انتظامیہ خواہ مخواہ اُس کو تردد میں ڈالے ہوئے تھی،

اُسے ہزار کوشش کے باوجود کبھی اُس میں کوئی کارآمد بات کوئی مثبت خیال نہ مل سکا تھا

دور جہالت کی ہر بات ہر عمل جو کہ کاغذ کے اُس تاریخ دان میں محفوظ تھا بالکل مضحکہ خیز اور بے ہودہ سا تھا

وہ سوچ میں گم طنزیہ انداز میں مسکرائے جا رہا تھا، ردی کے اس ڈھیر کی وجہ سے اُس دور میں لوگ کیسے کیسے ظلم و ستم کا شکار رہے ہوں گے، کسی پریشانی کسی ٹینشن کی وجہ سے ایک معمولی سا قتل ہو گیا، تو جیل یا پھانسی، کسی ضرورت کے تحت کوئی چھوٹا موٹا ڈاکہ ڈال لیا کوئ چوری کر لی تو جیل اور قید کسی نے عین جسمانی تقاضوں کے ہاتھوں مجبور ہو کر کسی عورت کو پکڑ لیا تو سزا، کوڑے قید یا جیل ۔۔۔۔۔ بھلا یہ بھی کوئی بات ہے ۔۔۔ اور ایک آج کا سنہرا دور ہے جب علم و دانائی نے ہماری دنیا کا نقشہ ہی بدل دیا ہے

ہم نے کیسے کیسے مشکل معاملے کو مذاکرات کے ذریعے حل کیا، مذاکرات کی ایک نعمت نے کیسے الہامی ادیان، آسمانی صحیفوں قانون ساز اداروں، انتظامیہ، عدلیہ ، آئین کے پلندوں ، قانون کی دستاویزوں ، جیلوں، بھانسی گھاٹوں ، سے ہمیں نجات دلا دی ۔ اچانک فون کی گھنٹی نے اُسے جھنجھوڑ دیا، 

مذاکراتی مرکز۔۔۔؟؟؟ دوسری طرف سے ایک گھبرائی ہوئی آواز سنائی دی

جی ۔۔۔ فرمائیے وہ تحمل سے بولا

چند لوگ ایک شخص کو قتل کر کے اُس کا سر تن سے جدا کر کے اُس سے فٹ بال کھیل رہے ہیں، کیا آپ ایک مذاکراتی ماہر کو روانہ کر سکتے ہیں 

جی بالکل پتہ لکھوائیے۔۔۔

فون رکھ کر پگڑی سر پر ٹھراتے ہوئے وہ سوچ رہا تھا

ضرور ان معصوم لوگوں کو بچن میں کھیل کود کے مناسب ذرائع میسر نہ رہے ہوں گے، اسی لئے تو بچارے اس طرح کا ردعمل ظاہر کرنے پر مجبور ہوگئے۔ مذاکرات پر آمادہ ہو جائیں تو بات ہے۔

ہمارا تہذیبی بحران اور اردو افسانہ۔

اگر جولیا کرسٹیوا نے تذلیل (Abjection) پر بات نہ کی ہوتی اور اس کوایک باقائدہ نفسیاتی و ادبی موضوع کی حیثیت تک نہ لے گئی ہوتی تو یہ لفظ ڈکشنری میں پڑا سڑ رہا ہوتا۔ اگر اکیسویں صدی کے دروازے پر(1993-1996) کھڑے ہو کر امریکی ماہر سیاست
سیموئل فلپس ہٹنگٹن نے تہذیبوں کا تصادم نہ لکھی ہوتی تو گزشتہ دھائیوں کے دوران تہذیب کی تعریف اور تہذیبوں کے تقابل پر مباحث میں ہر خاص و عام دلچسپی نہ لے رہا ہوتا۔ 

حسن اتفاق ہے کہ تہذیبون کا تصادم ہو، تہذیبی انہدام ہو یا تہذیبی بحران ہو ایبجیکشن کو یہاں بھی ایک خاص اہمیت حاصل ہے۔

اس بحث میں پڑے بغیر کہ سیموئل کی پیشین گوئی درست ثابت ہوئی یا نہیں اور اس نظریے کو بلا غور و فکر مانے بغیر کہ اکیسویں صدی بالخصوس نائن الیون کے بعد کا عالمی منظر نامہ تہذیبوں کے تصادم کاشاخسانہ نہیں ہے بلکہ فقط سیاسی و معاشی مفادات کی حفاظت اور سرمایہ دارانہ نظام کی طرف سے اپنے حق میں جاتے ہوئے عدم توازن کو برقرار رکھنے کی ایک سیاسی کوشش ہے آئیے ایک نظر تہذیب و تمدن کی تعریف پر ڈالتے ہیں، کیونکہ بہت سے قضیئے لسانی مبالغوں کے علاوہ کوئی اور جواز نہین رکھتے اور بہت سے مسائل الفاظ و معانی اور ان کے سماجی تعلق پر غور کرنے سے ہی حل کئے جا سکتے ہیں۔

تہزیب و ثقافت کیا ہے:

ثقافت " کے معنی ہیں ۔ عقلمند ہونا ۔ نیک ہونا ۔

تہذیب بمعنی ۔ ترتیب ۔ تہذیب ۔ پرورش کرنا ۔

کلچر کا مطلب ہے

, کاشت کرنا ۔۔۔ اور 

کسی فرد یا معاشرے میں فنون و ادب، تعلیم و تربیت اور سوچ و تفکر کے نتیجے میں پیدا ہونے والے فرق کی وجہ سے محسوس ہونے والی تبدیلی کو بھی کلچر یا ایسے فرد یا معاشرے کو کلچرڈ کہاجاتا ہے۔ 


کسی معاشرے کی علوم و فنون سے وابستگی کے نتیجے میں حاصل ہونے والی حالت یا یاکیفیت

ایک مربوط، منظم اور ترقی یافتہ معاشرہ

بین الاقوامی اجتماعی معاشرہ۔

خیال کی پرواز

کسی معاشرے کے ترقی یافتہ خطے کی سہولیات کی کیفیت۔


ایسا تسلسل یا طرز فکر جس سے کہ ایک معاشرہ اپنے کمال کو پہنچتا ہو۔

کمال کی اُس کیفیت کا نام۔

کسی مخصوص خظے یا دور کے عوام کا طرز بود و باش اور تمدن۔

جدید زندگی اور جدید معاشروں کی سہولیات و خدمات

۔ کسی قوم ۔ مِلّت یا گروہ کے کسی خاص دور میں بود و باش کا طریقہ بالخصوص عمومی عادات ۔ رسوم ۔ روایات اور عقائد
۔ اگر صرف فَنون سے متعلق ہو تو موسیقی ۔ ہُنر ۔ ادبی علوم یا تمثیل گھر


ریاستی افعال و سرگرمیوں کا ایک ایک مجموعہ جس میں مندرجہ ذیل میں سے چند ایک یا سب ادارے شامل ہوں مثال کے طور پر اجتماعات کے مقامات و صلاحیت، رسم تحریر اور تمدنی زندگی۔


مطلب یہ ہوا کہ تہذیب و ثقافت، کلچر و سیولائزیشن دو معنی میں استعمال ہونے والی تراکیب ہیں؛

اول: کسی قوم، معاشرے یا گروہ کی تربیت یافتہ شکل اور ان کے قوانین ، آئین ، تاریخ وغیرہ اُن کی شعوری بالیدگی، قانونی سماجی و سیاسی اداروں کی صلاحیت کاری و استعداد

دوئم:اس تہذیب یافتہ، ترقی یافتہ، بالیدہ، باصلاحیت مقام تک پہنچانے والے اور اس سطع کو قائم رکھنے والے عوامل عادات، رسوم و رواج، جیسے، مذہبی نظریات، شعر و ادب، تاریخ سے شغف سائنس سے شغف، فنون لطیفہ و فلسفہ کا اجتماعی جمالیاتی ذوق۔

اگر ہم گیارہ ستمبر کے بعد کے منظر نامے پر نظر دوڑائیں، سیموئیل کی پیشن گوئی کو ذہن میں تازہ رکھیں اور تہذیب و ثقافت، کلچر و سیولائزیشن کی درج بالا تعریف کو سامنے رکھیں تو ہمیں اس نظریے سے زیادہ اس کے جواب میں آنے والی تنقیدی آراء اور بالخصوص اس خیال میں زیادہ جان نظر آتی ہے کہ تہذیب و ثقافت ایک زیادہ وسیع تصور ہے اور اس میں تصادم ممکن تو ہے لیکن اس قدر آسان نہیں ہے 

سیموئل نے اپنے ابتدائی مضمون یا بعد میں چھپنے والی کتاب میں جن تہذیبوں کا ذکر کیا ہے ( مثال کے طور پر مغربی تہذیب، لاطینی امریکی تہذیب، قدامت پسند تہذیب، مشرقی تہذیب، چینی تہذیب اور مسلم تہذیب) ان میں سے اکثر نے اس خیال کو سنا، پڑھا، جائزہ لیا اور اس خیال سے کسی منطقی یا علمی نوعیت کا اتفاق یا اختلاف کیا لیکن دوسری طرف سوائے ایران کے مسلم تہذیب یا مسلم ممالک کی تہذیب ( میرے خیال میں یہ دو الگ حقیقتیں ہیں) نے حسب روایت کوئی جواب دینے، اختلاف کی صورت میں کوئی منطقی استدلال پیش کرنے یا اتفاق کی صورت میں کوئ مثبت رائے دینے کی بجائے بڑھ چڑھ واویلا مچایا اور اس نظریے کو مغرب بالخصوص امریکہ کا ایک مبنی بر دروغ پروپیگنڈہ کہا اور اسے مسلم امہ کے خلاف ایک سیاسی چال کہا قابل تاسف بات یہ ہے کہ سیاسی یا مذہبی حلقوں اور ریاستی اداروں کی طرف سے تو خیر لیکن ادبی حلقوں میں بھی نہ اس اہم ترین خیال پر کچھ لکھا گیا اور نہ ہی اس کو پس منظر میں رکھ کر کوئی تخلیق سامنے آئی مجھے نہیں یاد پڑتا کہ بالخصوص پاکستان میں کوئی ایک بھی افسانہ یا ناول اس تناظر میں منظر پر آیا ہو اور ستم ظریفی یہ کہ سیاسی اور مذہبی حد تک یہی مسلم ممالک دانستہ یا نا دانستہ طور پر اس نظریے کو سچ ثابت کرنے کا آلہ کار بنتے نظر آتے رہے۔

تہذیبوں کے تصادم کے نظریے کے جواب میں جس خیال کو سب سے بہتر پذیرائی ملی وہ سابق ایرانی صدر خاتمی کا "تہذیبوں کے مابین مکالمہ" کا تصور تھا۔

اسی خیال کو ایران کی طرف سے جنرل اسمبلی میں ایک ریشولیشن کے طور پر پیش کیا گیا جس کو اکثریت کی حمایت حاصل

رہی اور اسی کی بنیاد پر1998 میں اقوام متحدہ نے سن2001 کو تہذیبوں کے مابین مکالمے کا سال قرار دیا۔ 

خاتمی کا یہ جواب اور اس کی بین الاقوامی پذیرائی ایک مثبت طرز فکر کی نشاندہی کرتا ہے اس سے کسی تصادم کے "خوف" اور کسی تہذیب کو زیر کرنے کی سوچ یا کسی تہذیب کے حاملین میں عدم تحفظ کے احساس کی بیخ کنی کرنے کے طرز عملای کے اشارے ملتے ہیں اس سوچ سے تصادم کی بجائے مابعد جدیدیت کا رنگ جھلکتا ہے کہ کوئی ایک غلط نہیں ہے تو پھر سب غلط نہیں ہیں اگر کوئی ایک بہتر ہے تو پھر اپنی اپنی جگہ سب بہتر ہیں۔ یہ خیال تہذیب و تمدن کے معروضی بنیادوں پر درست یا غلط کے جھگڑے کو موضوعی بنیاد پر تقابل و مکالمے کے فروغ میں بدلنے کی ایک کوشش ہے۔

یہ تو تھا سیموئل کی کتاب یا تہذیبوں کے تصادم کے نظریے اور اُس کے حقیقی یا باطل ہونے اور اُس کے جواب میں آنے والے ایک مثبت جواب کا احوال لیکن وہاں کیا کیا جائے جہاں نہ تو کوئ ایک بھی اہم کتاب منظر پر آئی نہ کتاب یا نظریات کا علمی و تنقیدی جواب دینے کا رواج رہا نہ کسی نے اس مفلوک الحالی اس قحط الرجال پر تاسف کرنے کی یا کڑھنے کی زحمت کی۔۔۔۔۔۔۔۔۔

بلکہ جہاں تہذیبوں کے تصادم کی بجائے تہذیبی انہدام کا اہتمام ہوتا رہا ایک معاشرے کو اندھا بہرا اور مفلوج کر کے اپنے مطلوبہ نتائج حاصل کئے گئے۔۔۔۔۔ جی بدقسمتی سے یہ اس ملک کا تذکرہ ہے جہاں تہذیبی انہدام کے بعد بعد

اب ایک خلا ایک ابتلاء ایک تہذیبی بحران کا دور ہے۔

یہاں یہ بات واضع کر دینا ضروری ہے کہ پاکستان میں موجودہ حالات کا تجزیہ کرنے اور اُس کی جڑیں ماضی قریب و بعید میں ڈھونڈنے کا کہ یہ مقصد قطعا نہیں ہے کہ ہم کالی بھیڑ بن کے پاکستان کے قیام ، پاکستانی عوام یا ان کے جذبات و قربانیوں پر تنقیص محض کرنے لگیں، اور نہ ہی پاکستانی عوام یا بالکل غیر جانبدار و خالصتاغیر جانب دار و غیر جذباتی تحقیق نگاروں یا تجزیہ کاروں کے علاوہ کسی کو اس بات کی اجازت دی جا سکتی ہے کہ وہ پاکستانی عوام کی ذہنی و جذباتی کیفیت چاہے قیام پاکستان سے پہلے ہو یا بعد میں پر کسی قسم کی رائے زنی کرتا پھرے کیونکہ بحر حال عوامی خلوص و قربانی کسی بھی شک و شبے سے بالاتر رہی۔۔۔۔۔ یہاں حال ہی میں پاکستان میں چھپنے والے اقبال حسن خان کے ایک ناول "گلیوں کے لوگ" میں پیش کیئے جانے والے منظر نامے اور اس ناول کے کرداروں کی خود کلامیوں اور مکالموں کو دہرانا شاید اس فرق کو سمجھنے میں ممد ہو گا۔۔۔۔۔ گلیوں کے لوگ میں مصنف نے بڑی خوبصورتی اور چابک دستی سے کرداروں اور مکالموں کی زبانی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔قیام پاکستان کے وقت متحرک تینوں طرح کے نظریات کو اجاگر کرنے کی کوشش کی ہے ۔۔۔۔ ایک مولانا آزاد نظریہ جو پاکستان بنانے کا سماجی و ثقافتی عقلی بنیادوں پر مخالف تھا اور جسے وہ نظر آ رہا تھا جو شاید "بقول اُن کے" جناح صاحب کو نظر نہیں آ رہا تھا کہ مسلمانان خطہ کا ثقافتی ، تمدنی و تاریخی تعلق اپنے ماضی قریب سے قطع ہو جائے گا اور ایک ثقافتی قطع تعلقی یا انہدام کی صورت پیدا ہو جائے گی ۔۔۔۔ دوسرا جناح صاحب یا مسلم لیگ کا نظریہ کہ ۔۔۔۔ لوگوں کے مذہبی جذبات کی طاقت کو ساتھ ساتھ رکھ کر ایک نئے ملک کی بنیاد تو رکھی جائے لیکن اُس کو کسی بھی ایک گروہ کے حوالے کرنے کی بجائے اُسے ایک فلاحی ریاست بنانے کی کوشش کی جائے جہاں سب کو اپنے اپنے نظریات کے مطابق مکمل آزادی حاصل ہو اور تیسرا جاگیرداروں، وڈیروں اور مذہبی ٹھیکیداروں کا نظریہ جو قیام سے پہلے اپنے ذاتی مفادات کی وجوہ پر اختلاف کرتے رہے اور قیام کے بعد بھی اپنے ذاتی مفادات کے تحفظ کے لئے نظریات کو ہانی جیک کرنے میں لگے رہے ۔۔۔۔

یہ بات ہمارے بہت سے "روشن خیالوں" کے دل کو لگتی ہے کہ کہ جناح صاحب کی سیاسی کوششیں مذہبی ملمع کاری سے بے نیاز تھیں لیکن جب انھوں نے دیکھا کہ عوام اور خاص کر ناخواندہ اور سیاسی شعور سے بے بہرہ عوام کو اکھٹا کرنے اور متحرک کرنے کے لئے مذہبی نعرہ ایک بہتریں پلیٹ فارم ہے اور یہ کہ اس کے بغیر عوام کا سیاسی شعور بیدار کرنے کے لئے صدیوں نہیں تو برسوں درکار ہیں تو انھہوں نے اس قوت کو ضائع کرنے کی بجائے اس کو ایک مثبت رخ کی طرف موڑ دیا۔۔۔(۔اب یہ ضروری نہیں ہے کہ تاریخ اسے ایک پرخلوص حکمت عملی کے طور پر ہی یاد رکھے۔ تاریخ اس کو ایک فاش سماجی غلطی یا ایک ظالمانہ سیاسی چال کے طور پر بھی محفوظ کر سکتی ہے ) مثبت رخ کی طرف موڑنے سے میری یہ مراد ہے کہ عوام کے جذبات کو جٹھلانے اور اُن کو سیاسی دھارے سے کاٹنے کی بجائے اس خیال کو بھی اسی طرح رہنے دیا گیا کہ یہ نیا ملک اسلام کے نام پر حاصل کیا جا رہا ہے اور ساتھ ساتھ اس نظریے کی اصلاح بھی کی جاتی رہی کہ اسلام کے نام پر ملک سے مراد تھیوکریسی یا ایک اسلامی ریاست نہیں بلکہ ایسا ملک جہاں پر ہر ایک کو مذہبی ، سیاسی اور ثقافتی آزادی حاصل ہو گی۔ 

لیکن اس بد قسمت خطہ ارضی کے ایک ملک بنتے ہی ایک ایسی افراتفری ایک آپا دھاپی شروع کی گئی اور بجائے اس نوآزاد خطے کو خود پھلنے پھولنے اور پنپنے کا موقع دینے کے اسے اپنی ذاتی پسند و ناپسند کے شکنجے میں کَس دیا گیا۔۔۔ ابتداء ہی سے یہ بحث چھیڑ دی گئی بلکہ بحث کیا یک طرفہ طور پر یہ فیصلہ کر لیا گیا کہ یہ ملک جمہوریت ، بنیادی انسانی حقوق کی دستیابی، برابر معاشی و سماجی مواقع یا آزادی کی فضاء میں پھلنے پھولنے کے لئے نہیں بلکہ اسلام کی تجربہ گاہ کے طور پر وجود میں لایا گیا ہے کیا اسلام کو خلافت راشدہ کے ، اموی، عباسی، فاطمی، عثمانی اور مغل ادوار کے بعد بھی ابھی تجربہ گاہ کی ضرورت تھی کیا اس طرح کا نعرہ لگانے والوں کو اسلام کی حقانیت پر ایک لاشعوری شک نہیں تھا، اورکیا اسلام کے سنہری دور کے "تجربات" کے علاوہ وہ کوئی اور تجربہ کرنا چاہتے تھے۔۔

چلو بہت سے دلائل کے باوجود یہ مان بھی لیا جائے کہ ایسا ہی تھا تو پھر اِس تجربہ گاہ کا میں اسلام کو لٹاتے ہی اس کا رشتہ اس کے اپنے ہی مادی وجود سے کیوں کاٹ دیا گیا، اسلام کو خالص بنانے کے جنون میں اسے ایک ہی جست میں چودہ سو برس پیچھے کی دیوار پر ٹانک دیا، مذہب تہذیب و تمدن کا ایک اوزار ہے ثقافت، تہذیب ، تمدن کے استحکام، اور عروج کے لئے قانون، ادب، آرٹ ، لوک ورثہ، لسانی سرمایے، تاریخ کے تسلسل کی بھی ضرورت ہوتی ہے اور ان سب اجزاء کو چھوڑ کر بلکہ جھٹلا کر جب ایک ہی جزو کو آنکھوں پر باندھ لیا گیا تو لامحالہ اُس معاشرے اُس خطے کے تہذیبی وجود نے منہدم ہونا ہی تھا۔۔۔۔

یہ سلسلہ چلتا رہا ، تقسیم ہند سے پہلے ہم اپنے ہندو پڑوسیوں کو جن مغل بادشاہوں کے نام اور قصے گنوا کر اپنا تفاخر جتاتے تھے پاکستان بننے کے بعد ہم نے انہی ہیروز کو "غیر اسلامی" کہہ کر سیدھا خلافت راشدہ کو گلے لگا لیا،امن، مومن، دبیر، میر، اور غالب و سودا کو ہم "اپنے شاعر" کہتے نہیں تھکتے تھے لیکن پاکستان بنتے ہی وہ ہندوستانی ہو گئے اور ہم نے سرے سے شاعری کو ہی حرام کہنا شروع کر دیا ہم جس امیر خسرو، ظفر خان، پیارے خان، واجد علی شاہ، وزیر خان،امیر حسین خان، بڑے غلام علی خان،بسم اللہ خان کو ہندوستانی موسیقی میں اپنا عظیم سرمایہ سمجھتے تھے اُن کو ہم نے اپنے ماضی کی ایک غلطی

ایک شرمندگی قرار دینا شروع کر دیا۔

میدان جنگ میں تلوار ننگی ہی اچھی لگتی ہے لیکن گھر لوٹ کر بھی اگر برہنہ شمشیر لہراتے رہو تو بیوی بچے کٹ جاتے ہیں انسان احمق لگتا ہے، انفرادی زندگی کی طرح معاشرتی زندگی میں بھی نظریات و خیالات ، معاملات و اعمال کا کوئی نہ کوئی زمانی و مکانی حوالہ ہوتا ہے۔۔۔۔ پاکستان بننے سے پہلے اگر کچھ لوگ یا گروہ مذہبی نظریات و عقائد کی ایک رزمیہ کی طرح سے پر زور تکرار کرتے تھے تو وہ اُس وقت اور اُن حالات کے مطابق ضروری تھا لیکن ایک ہنگامی حالت اور اُس کی ضروریات کو مستقل قومی مزاج بنالینے کی غلطی بہت بڑی غلطی تھی اپنے قومی وجود کو اپنے ماضی قریب کے سرمایے سے، کاٹ دینا ایک ایسے خلاء کو ایک ایسے ویکیوم کو پیدا کرنے کا موجب بنا جس نے معاشرے کی رنگینی، تہذیب و تمدن کا اعتبار ختم کر دیا ہر شخص "سب کچھ غلط تھا" کے نعرے کے بہاؤ میں آ کر ماضی بعید سے اپنی بنیادوں کے لئے پتھر لانے کے فکری صحرا میں ایسا گم ہوا کہ قومی وجود کا شیرازہ ہی بکھ گیا ۔ 

رفتہ رفتہ سیاسی بالیدگی آ رہی تھی، سماجی شعور پختگی کی عمر میں داخل ہو رہ تھا، قومی مزاج اس خلاء کو پُر کر رہا تھا، لوگوں کو اس بات کا احساس ہو رہا تھا کہ ایک طرف تو چودہ سو سال پرانی اپنی بنیاد سے رشتہ استوار رکھنا ہے اُسی پر قدم جما کر کھڑا ہونا ہے لیکن دوسری طرف درمیانی عرصے کو دیواروں کی طرح استعمال کر کے ہی ایک گھر بن سکتا ہےلیکن ایک بار پھر بدقسمتی ہماری حماقت کی دعوت پر ہماری مہمان بنی بالخصوص اسی کی دہائی سے پاکستان دو بیرونی ملکوں کی کشمکش کا اکھاڑہ بنا ، عالمی سطح پر تہذیبی تصادم ہو نہ ہو علاقائی سطح پر دو مختلف سیاسی، قومی اور فقہی نظریات کے تصادم سے پاکستان میں تہذیبی تنزلی کا دور شروع ہو ا اور اس بار پھر ٹھیکیداروں نے ہاتھ آئے موقع سے بھر پور فائدہ اٹھاتے ہوئے عوام کی آنکھوں پر خود پسندی، جھوٹے تفاخر ، خالص اسلام کی بازیافت اور اسلام کے قلعے جیسے نعروں کی پٹیاں باند کر تنہائی ، قطع تعلقی اور خود فریبی کے کنوؤں میں پھنک دیا۔۔۔۔ہمارا ہماری مشترکہ ( شاید گنگا جمنی تہذیب کہنا کچھ ایسا غلط بھی نہیں) تہذیب و ثقافت سے بچا کچا رشتہ بھی کاٹ دیا گیا ۔ 

اور ہم اکیسویں صدی میں ہم اس طرز فکر کے ساتھ داخل ہوئے ہیں کہ غالب نے کہا "غالب ندیم دوست سے آتئ ہے بُو دوست، مشغول حق ہوں بندگی بو تراب میں" اور چونکہ غالب نے بو تراب کی بندگی کی بات کی ہے اس لئے وہ کافر و مشرک تھا، تان سین اور سوامی ہری داس کی تو خیر بات ہی چھوڑیں امیر خسرو نے موسیقی کی بات کی ، موسیقی اسلام میں حرام ہے اس لئے امیر خسرو بھی ایک کافر تھا۔۔۔۔ بھلے شاہ نے خود کہا کہ اُسے پتہ ہی نہیں کہ وہ مسلمان ہے یا نہیں اس لئے وہ بھی کافر تھا۔۔۔۔ 

بحث یہ نہیں کہ اس میں کس کا ہاتھ ہے کس کا نہیں، کوئی خفیہ ہاتھ ہے یا سب اپنے ہی ہاتھ ہیں لیکن دستانے پہنے ہوئے ہیں غور طلب بات یہ ہے کہ قومی اداروں نے، ذمہ داروں نے، پالیسی سازوں نے، قانون سازوں نے، شاعروں ، ادیبوں نے اس نازک موڑ پر کیا کردار ادا کیا۔۔۔۔

اصولی بات تو یہ ہے کہ تمام سٹیک ہولڈرز کو چاہے وہ قانون ساز ہوں، عقل و شعور رکھنے والے علماء ہوں، درد دل رکھنے والے ادیب ہوں یا سماجی تنظیمیں ہوں کو ہر طرح کی مسلکی و سطحی سوچ سے بلند ہو کر اس تہزیبی شکست و ریخت کا اس تنزلی کا اس بحران کا احساس کرنا چاہئے تھا اور پھر اپنی قومی شناخت، اپنے ملکی تشخص کو بچانے کے لئے میداں عمل میں کود پڑنا چاہئے تھا لیکن بد قسمتی سے ایسا ہوا نہین اور ہر سطح پر ریاستی و سماجی ادارے انتشار کا شکار ہونے لگے۔۔۔۔۔ تقسیم ممکن نہ تھی کیونکہ تصادم کا ہوا کھڑا کرنے والے، بحران کو ہوا دینے والے اقلیت میں تھے اور اُن کے سرکردگان باہر بیٹھے تھے۔ لیکن انحطاط و بحران منطقی نتیجہ تھا جس تک ہم پہنچ گئے۔

اب تو یہ تخریب کاری یہ مبنی بر جہل رویہ یہ قول و فعل کا تضاد یا یہ نظریاتی منافقت اس حد تک زور پکڑ چکی ہے کہ ریاست اس کے آگے بے بس ہے ۔ چھوٹے چھوٹے روز مرہ کے معاملات سے لے کر قومی نوعیت کے مذہبی و سیاسی فیصلوں تک ہر طرف ایک سنگین صورت حال ہے۔۔۔۔

مذہب و سیاست کے تناظر میں اگر ہم حال ہی کا جائزہ لیں اور ہندوستان میں تازہ ترین انتخابات کے موقع پر ، دیو بندی علماء کی طرف سے ہندوستانی مسلمانوں کو مخاطب کر کے شائع کئے گئے سیاسی مشورے پر ایک نظر ڈالیں تو قطع نظر اس کے کے اسی مکتبہ فکر کا پاکستان میں جمہوریت اور سکیولر ازم کو حرام قرار دینے اور ہندوستان میں سیکولر ازم کی نہ صرف حمایت بلکہ اسے مودی کے خلاف ایک "اسلامی" ہتھیار کے طور پر ضررو بالضرور استعمال کرنے کا فرق انتہائی مضحکہ خیر نظر آتا ہے۔۔۔۔ یہ طرز عمل یہ فکر ایک اور اہم نقطے کی طرف بھی اشارہ کرتا ہے کہ مذہبی بنیادوں پر ٹکراؤ اصولی سے زیادہ سیاسی ہے اور اس کو خالصتا سیاسی مقاصد کے کئے ہی استعمال کیا جا رہا ہے اور یہ کہ ہندوستان اور پاکستان میں مسلمان عوام کاسیاسی مقاصد کے لئے استعمال ہونے والے مذہبی نعروں کا تناظر بالکل الک الگ ہے یا کم از کم سیاسی ملاؤں نے ایسا کرنے کی ٹھانی ہوئی ہے۔ تو کیا اس کا یہ مطلب ہے کہ ایک ہی مذہبی نظریہ یعنی اسلام پاکستان میں تو اسلامک تھیوکریسی کی حمایت کرے گا اور لبرل و سکیولر نظریات کو کفر قرار دے گا اور یہی نظریہ ساز ہندوستان میں سکیولر ازم اور لبرل ازم کا دفاع اسلامی احکام و شریعت کی روشنی میں کریں گے اور اس مقصد کے لئے شاید چند احادیث و واقعات بھی بہم پہنچا لیں گے۔

گو مذہب کا پرچار کرنے والوں کی نظر میں یہ مثلحت پسندی یا زمینی حقائق کے مطابق فیصلہ کرنے کی صلاحیت ہو لیکن ادب کی نظر میں یہ منافقت و سماجی و اخلاقی معیار سے گراوٹ ہو گی۔۔۔۔ لیکن کیا ہمیں اطراف کے سیاسی و سماجی حالات کا ادراک کرتے ہوئے ادبی ذمہ داریوں کے تنوع کا ادراک بھی اس ڈر سے کرنا چھوڑ دینا چاہئے کہ ادب مذہب کے تابع ہے۔۔۔۔
بات چونکہ ادب اور بالخصوص افسانے کی ہو رہی ہے تو آئیے اُسی کا احوال دیکھتے ہیں۔۔۔ 

اردو اور ہندی بولنے اور سمجھنے والے پاکستان میں بھی ہیں اور ہندوستان میں بھی ، افسانہ دونوں طرف لکھا جاتا ہے لیکن


آپ ایک غیر جانبدارانہ قاری کی حیثیت سے یا ایک عام شہری کی حیثیت سے بنظر غائر اسی کی دہائی کے بعد پاکستان میں تخلیق ہونے والے ادب بالخصوص افسانے کا جائزہ لیں آپ کو کتنے افسانے ایسے نظر آتے ہیں جن میں اس المیے اس تہذیبی بحران کے اشارے یا اس غم و اندوہ پر کوئی آنسو کوئی کراہ یا کوئی سرد آہ ہی سنائی یا دکھائی دے جائے۔

۔۔۔۔۔ گو فکری قدریں وہی ہیں ادب کی جمالیات وہی ہے، اسالیب وہی ہیں اور مضوعات تنوع کے باوجود انسان اور معاشرے کے گرد ہی گھوم رہے لیں لیکن آج کا دورانٹر نیٹ کا دور ہے سوشل میڈیا کا دور ہے اور اس تبدیلی کی وجہ سے ایک فرق یہ بھی پڑا کہ اب براہ راست قاری و تنقید نگار کی رائے سے تعامل کا موقع مل جاتا ہے کسی افسانے کسی تحریر پر اشاعت کے عرصہ بعد ایک یک طرفہ رائے موصول نہیں ہوتی بلکہ فورا ایک تنقیدی مباحثے کا سا ماحول بھی میسر ہو جاتا ہے اور بہت سی آراء کے تقابل کا ماحول بھی بنتا رہتا ہے۔۔۔۔ افسانےاور افسانے کے موضوعات پر مباحث میں بہت دلچسپ صورت حال اُس وقت ہو جاتی ہے اور پاکستان میں موجود اس تہذیبی بحران کی سنگینی کا اندازہ بہت بہتر انداز میں ہونے لگتا ہے جب کسی افسانے پر بات کرنے ہوئے کسی تنقیدی مضمون پر رائے دیتے ہوئے کوئی باقائدہ قاری کوئی صاحب رائے تنقیدی نگار کوئی شاعر آپ سے کہنے کہ منٹو ایک مایہ ناز افسانہ نگار تھا میں کم از کم افسانے کی حد تک منٹو کو آئیڈیلائز کرتا یا کرتی ہوں لیکن بس ایک تھوڑا سا مسئلہ یہ ہے کہ وہ منٹو قدرے فحش نگار تھا اگر اور ہمیں آج اس ذمہ داری کا احساس کرنا چاہئے اور "ڈھکے چھپے " انداز میں افسانے لکھنا چاہئے۔

۔۔۔۔۔۔۔پاکستانی ادیب خود دو حصوں میں بٹ چکے ہیں ایک تو وہ جنہوں نے مذہبی خوف کے زیر اثر سوچنا، سمجھنا، بولنا ہی چھوڑ دیا اور ادب کو مذہب کے تابع مان کر سمجھوتے کی نرم و گرم شال اوڑھ لی ہے اور دوسرے وہ ایک وہ جو فنون و ثقافت سے شعر و ادب سے وابستہ تو ہیں لیکن انہوں نے معاشرے سے معاشرے کے درد سے اپنا رشتہ کاٹ کر بس جھوٹی "ادبی جمالیات "میں پناہ لے لی ہے اُن کا ماننا ہے کہ ادب کا بھلا سیاست، مذہبی معاملات اور ریاستی حالات سے کیا تعلق ادب تو ادب ہے لیکن کیا یہ نری بکواس کے سوا کچھ اور ہے ۔۔۔۔ ۔

یہ جواز غلط ہے کہ پاکستان کے اندر دہشت گردی کی فضاء میں بیتھا ہو ا تخلیق کار چونکہ خطرات میں گھرا ہوا ہے اس لئے ادب و مذہب کی اقدار کے مابین فرق کو سمجھے کے باوجود وہ اُس پر کچھ لکھ نہیں سکتا۔۔۔وہ علامت نگاری کہاں گئی جو بے موقع تو لکھی جاتی رہی لیکن اب خاموش ہے ۔۔ مرحوم منشاء یاد زمانی و مکانی لحاظ سے دہشت گردی کے مرکز میں تھے لیکن "تماشہ " لکھا۔۔۔گو علامتی ہی لکھا اور قلیل لکھا لیکن کچھ تو لکھا ۔۔ اقبال حسن خان تو منشاء یاد کی نسبت زیادہ نرغے میں ہے لیکن "گلیوں کے لوگ لکھا" اور خوب لکھا جو اس بات کا منہ بولتا ثبوت ہے کہ لکھنے والا لکھے بغیر نہیں رہ سکتا ۔۔۔۔ تخلیق خود اپنے آپ کو خلق کرواتی ہے۔۔۔ لیکن اس ناول پر ہونے والی تنقید خون کے آنسو رلاتی ہے یہ ایک ایسے ہجوم ایک ایسی بھیڑ کی عکاسی کرتی ہے جس میں قومی شعور، ادبی جمالیات اور تحمل و برداشت نام کو نہ ہو۔۔۔۔ ادیب حساس ہو تو مکانی فاصلہ اہم نہین رہتا ۔۔۔۔۔ اور اسی لیئے یہاں اس تہذیبی بحران کے پیچھے کارفرما اپنی ہی قومی و سماجی حماقت کے موضوع پر شموئیل احمد کے افسانے "آنگن کا پیڑ" کا ذکر نہ کرنا بے انصافی ہو گی۔۔۔ حیرت ہے کہ شموئیل جیسا حساس فنکار جو کبھی پاکستان آیا ہی نہیں وہ ہندوستان میں بیٹھ کر صورت حال کا سماجی و ادبی احاطہ کر سکتا ہے اور پاکستانی ادیب جو بیرون ملک مقیم ہیں اُن کا یہ واویلا ہے کہ چونکہ ہم ملک سے باہر ہیں اس لئے ہم حالات و واقعات کی سنگینی سے کٹے ہوئے ہیں۔۔۔۔۔ کیا سیاسی و سماجی منظر نامے سے جڑے بغیر کوئی ادیب کوئی اہم تخلیق کر سکتا ہے۔ 


بوریت۔

میلے میں باپ کی انگلی پکڑے گھومتا ہوا بچہ ،

 سر کے بل کھڑے ہو کر رسی پر بائسیکل چلانے والے مداری، 

سانپ کے جسم اور انسان کے منہ والی لڑکی اور 

شیر سے کرتب کرانے والے لڑکے کو بیزارگی سے دیکھتا ہوا بولا 

ابا یہاں تو سب کچھ بور کرنے والا اور پھیکا سا ہے

صبح ٹی وی میں جو خودکش دھماکہ دیکھا تھا اُس جگہ چلیں 

بہت مزا آئے گا۔

Sunday, January 4, 2015

رکھوالی۔


 
 
 

اڑن کھٹولہ، پریاں اور ہماری بے زاری۔


ابا جی سے اکثر بحث مباحثہ اور بعض معاملات پر تنقیدی نوعیت کی گفتگو کا سلسلہ رہا کرتا تھا۔نظریات میں اختلاف تھا اس لئے اکثر اختلاف رائے بھی ہو جاتا اور بعض اوقات بات دودھ پتی یا کڑاھی گوشت کی شرط پر رکتی، ایک دفعہ ایسی ہی کسی گفتگو میں انسان کی ناشکری اور فطری اکتاہٹ پر بات پھنس گئی، ابا جی بضد تھے کہ انسان ہر حال میں نا شکرا ہے اور اگر اٗس کی ساری کی ساری خواہشات بھی پوری کر دی جائیں تو وہ شاکی ہی رہے گا اور کچھ ہی دیر میں اپنی تشنہ ترین حسرت کی باریابی سے بھی بے زار ہو جائے گا، میرا اس بات سے اختلاف تھا میرے خیال میں اگر خدا انسان کی تمنائیں بر لائے اور زیادہ کبریائی کا مظاہرہ نہ کرے تو انسان خوش و خرم بلکہ شکر گزار رہ سکتا ہے۔مثال کے طور پر، وہ چِڑ کے بولے، مثلا۔۔۔۔۔ جیسے ، میں نے کچھ مثالیں پیش کیں، جیسے ہمیشہ صحت مند اور جوان رہنے کی خواہش، ہواؤں میں اڑنے کی خواہش،یا سب سے بڑھ کر جو چاہو وہ پالینے کی خواہش، اب دیکھیں اگر مجھے ایک اڑنے والا غالیچہ یا کھٹولہ مل جائے، کچھ پریاں ہوں جو میری خدمت پر مامور ہوں ، مجھے اُڑاتی پھریں ، مجھے کھانے ، مشروب اور جو مانگوں وہ پیش کریں جہاں چاہوں وہاں لے جائیں تو کون کافر ہے جو بے زار ہو یا ناشکری کرے گا۔ ابا جی نے گاؤ تکیہ کمر کے پیچھے سے کھسکایا اور بستر پر دراز ہوتے ہوئے بولے ، اپنی کریہہ شکل لے کر میرے کمرے سے نکل جاؤ، میں تم سے مزید بحث نہیں کرنا چاہتا، مجھے پتہ تھا اب دو تین دن کوئی بات نہیں ہو گی اس لئے میں نے کھسکنے میں ہی عافیت سمجھی۔

میں ٹیکسی کے لئےادھر ادھر نظریں دوڑاتے ہوئے تصور میں ابا جی سے ہی باتیں کر رہا تھا اور یہ فیصلہ نہیں کر پا رہا تھا کہ بیس سال پہلے لگائی گئی شرط آج ابا جی کے مرنے کے دس سال بعد میں ان سے ہار گیا ہوں یا نہیں ۔ کیونکہ ایک دن آیاکہ میں اس منزل پر پہنچ گیا جہاں ایک خوبصورت سی پری نے میرے آگے جھک کر کہا، حضور اس طرف، اور میں شان بے نیازی لیکن ایک تمکنت سے چلتا ہوا آگے بڑھ گیا ، ایک بڑے سے غالیچے پر ایک محمل کے انداز میں ایک کھٹولہ سا بنا کر مخملیں پردے آویزاں کر کے بیچوں بیچ ایک خوبصورت صوفہ بھی سجا دیا گیا تھا، میں صوفے میں دھنس کر بیٹھ گیا، وہ پری ایک دوسری پری کو لے کر آئی اور دونوں میرے ارد گرد منڈلانے لگیں، ان کی معطر سانسوں اور گداز لمس نے پہلے تو ہمارے تن من کو ہوا میں بلند کیا اور پھر قاف کی چوٹیوں جیسے نشیب و فراز والے سراپوں کے ہلکے ہلکے ٹھوکوں اور خواب ناک مناظر نے جیسے مدہوش کر دیا، کبھی وہ میرے لئے لگائے گئے صوفے کو درست کرتیں، کبھی میرے اوپر سے لپک کر مخملیں پردے سنوارے جاتے کبھی مجھے اور کبھی محمل کو دیکھا جاتا ، پھر دونوں موءدب انداز میں ہاتھ باندھ کر میرے سامنے کچھ فاصلے پر کھڑی ہوگئیں، مجھے یقین نہیں آ رہا تھا کہ یہ خواب ہے یا حقیقت، شاید انھوں نے بھی میری حیرت و بے یقینی کو محسوس کر لیا اسی لئے ایک پری مسکراتے ہوئے میرے پاس آئی اور جھک کر بولی ، لگتا ہے ہمارے حضور کا اڑنے والے غالیچے کا یہ پہلا اتفاق ہے اگر حکم کریں تو ہم کچھ مدد کریں، میں نے انسانوں کی اجتمائی تکریم اور اپنے اشرف المخلوقات ہونے کا بھرم رکھتے ہوئے ایک شان بے نیازی سے کہا ، نہیں بھئی، اگر ہمیں کسی شے کی ضرورت ہوئی تو ہم تمھیں اشارہ کریں گے۔ ہمارے دل میں خیال گزرا کیا یہ غالیچہ کوہ قاف کی کہانیوں کی طرح اڑے گا بھی یا فقط ایک دکھاوا اور دھوکہ ہی ہے ، شاید وہ ہمارے دل کی آرزوئیں بھی جان سکتیں تھی اسی لئے تو انھوں نے ایک دلربا مسکراہٹ کے بدلے ہمیں درست ہو کر بیٹھے کی درخواست کی اور یہ لو، دفعتا ہماری محمل نے ایک ہچکولا سا لیا اور ہوا میں بلند ہو گئی، ہمارا دل جیسے اچھل کر حلق میں آ گیا لیکن بچپن کی حسرت کے پورا کرنے کی خاطر اور پری زادوں کے سامنے آدم زادوں کی حرمت بچانے کے لئے کچھ تو صبر و تحمل کا مظاہرہ کرنا ہی تھا سو ہم اطمینان سے براجمان رہے۔

غالیچہ کا بلند ہونا تھا کہ ہم پست ہونا شروع ہو گئے۔ ہمیں لگا جیسے ارد گرد کی ہر چیز بہت معمولی، چھوٹی اور بوسیدہ سی ہے، دونوں میں سے ایک پری ہمارے بالکل قریب آئی اور ہماری کان کی لو سے اپنے یاقوتی ہونٹ مس کرتے ہوئے سرگوشی کے انداز میں بولی حضور کی طبیعت بوجھل تو نہیں ہو رہی ہم نے نفی میں سر تو ہلایا لیکن ہماری سٹی کمبخت کہیں گم ہو گئی تھی جس کو اُس مہ رخ کی جھیل جیسی آنکھوں نے کہیں بھانپ لیا شاید اسی لیے اُس نے اپنی ایک بازو ہماری گردن کے پیچھے رکھی اور دوسرے ہاتھ سے ہمارے سر پر منتر کے انداز میں کچھ پھیرا ، یک دم ہلکی ہلکی مدہم سے روشنی اور یخ بستہ ہوا نے ہمیں اپنی آغوش میں لے لیا، لیکن اسی پر بس کہاں ہوئی ہماری مہرباں نےمحمل کی ایک دیوار پر اپنی مخروطی انگلیاں پھیریں اور جادو کے زور پر وہاں سے ایک چھوٹی سی ٹہنی سی نکال کر ہمارے کانوں سے لگا دی، ایک مدھر سی موسیقی ایک میٹھی سی تان نے جیسے ماحول میں رس گھول دیا اور ہماری پلکیں بوجھل ہونے لگیں اچانک ہمیں خیال آیا کہ ہماری اڑنے کی خواہش کا نقطہ کمال تو یہ حسرت تھی کہ ہم بادلوں پر تیرتے پھریں اور پرندوں سے بھی بہت اوپر اڑ کے دیکھیں کہ ہماریے گرد و نواح کی دنیا کیسی لگتی ہے، ہم نے آنکھیں کھولیں محمل کا پردہ سرکایا اور نیچے پھیلے ہوئے منظر پر حقیقت میں طائرانہ نظر ڈالی، اوہ خدایا کیا حسن ہے ، کیا خوبصورتی ہےتیری اس دنیا کی، تیری کائنات کی کیا بات ہے۔ زلفوں اور ان میں بسی خوشبو کی طرح اڑتے اور تیرتے ہوئے سیاہ و گلابی بادل اور اُن کے بیچوں بیچ تیرتے ہوئے ہم ، نیچے گلی محلے مکان بڑی بڑی سڑکیں بلکہ پورا شہر اس طرح دکھائی دے رہا تھا جیسے ہم کسی دوشیزہ کے ہاتھ کی لکیریں دیکھ رہے ہوں، بڑے بڑے پہاڑ کسی کے سینے کے زیر و بم کی طرح زمین کے مخملیں بستر پر محو استراحت نظر آ رہے تھے ، دریا کے کنارے کنارے درختوں کی قطاریں جیسے کسی آنکھ میں مہارت سے لگا ہوا کاجل ۔
بالائی سطح کے طلسم کی تو بات ہی کچھ اور تھی ہمیں پہلی بار احساس بلکہ یقین ہوگیا کہ جس کو ہم خلا کہتے ہیں وہ خلا نہیں ہے۔ وہ تو رنگ و نور، اور کیف و سرور کا ایک سمندر ہے ، جب آپ مادے کی قید سے تھوڑی آزادی حاصل کرنے میں کامیاب ہوتے ہیں تو آ پ کو پتہ چلتا ہے کہ مادہ کتنا حقیر کتنا، کثیف اور کتنا مادی ہے۔


اچانک کہیں سے ہمارے کاندھے پر پھولوں کی ایک ڈالی سی جھول گئی مڑ کر جو دیکھا تو ایک اور خوبصورت پری جو پہلی والی سے بھی کم سن ، حسین و جمیل اور شوخ ادا تھی ہمارے کاندھے پر ہاتھ رکھے کھڑی مسکرا رہی تھی، کیسا لگ رہا ہے حضور، بہت اچھا، ہم خوش ہوئے، ۔۔۔ کیا کچھ تناول فرمائیے گا، آں ، ارے ہاں کچھ کھانا چاہئے ہمیں تو خیال ہی نہ رہا کہ ہمیں کچھ بھوک بھی لگ رہی تھی۔ ہماری شوخ ادا نے ہمارے ہی پنگھوڑے پر کچھ پڑھ کر ہاتھ پھیرا اور چشم زدن میں وہاں کھانے کی ایک میز نمودار ہو گئی اس نے ایک زنبیل میں ہاتھ ڈالا اورپکوان اور مشروبات نکال نکال کر ہمارے سامنے قرینے سے پرونے لگی، تمام اشیاء ایک ہی جگہ سے برآمد ہونے کے باوجود کھانا اتنا تازہ اور گرما گرم اور مشروبات اتنے ٹھنڈے تھے کہ ہم ممنون اور مسحور ہوئے بغیر نہ رہ سکے ۔


کھانا کھا کر ہم اس قدر سرور میں آئے کہ پتہ ہی نہ چلا کب آنکھ لگ گئ نہ جانے کب تک ہم خواب میں بھی اور حقیقت میں بھی بادلوں اور فضاؤں پر تیرتے رہے، جب آنکھ کھلی تو اُس توبہ شکن کو اپنے بالکل پاس اپنے احکامات کی منتظر پایا، ہماری آنکھ کھلتے ہی اُس کے لب ہلے ، چائے دوں، کون کافر تھا جو انکار کرے ، گردن خود بخود اقرار میں جنبش کھا گئی لیکن اس معصوم کو ہمارے اندر کے کرب کا کیا اندازہ تھا ، وہ کرب جو جاگنے کے بعد پچھلے چند لمحوں کے ادراک میں ہم پر گزر گیا تھا، بھلا کس طرح ، وہ بھی ایک پری کو ، وہ بھی ہوا میں تیرتے ہوئے ، بادلوں کا جھولا جھولتے ہوئے ، فضاؤں میں مادے کی کثافتوں سے دور بلند و بالا ہوکر ، کس طرح ہم اس کو بتاتے کہ ہمیں رفع حاجت کے لئے جانا ہے ۔ لیکن یہ ایک حقیقت تھی، یہی اس وقت کی سب سے بڑی سچائی تھی۔

مرتا کیا نہ کرتا، پہلے ایک دو بار پنگھوڑے میں ہی کروٹیں بدلیں، کچھ پیٹ پر ہاتھ رکھ کر چہرے پر درد اور تکلیف کے تاثرات ابھارے اور پھر بڑی خجالت سے اپنی پری زاد کو ایک عامیانہ سا اشارہ کر کے اپنی طرف بلا لیا، اب جو وہ ہمارے قریب آ گئی تو اظہار تمنا کا مرحلہ درپیش آ گیا، لعنت ہو ایسے لمحے پر جب ایک خوبرو مہ رخ سے دل کا حال بیان کرنے یا عشق و محبت کے اظہار کی بجائے آپ کو بیت الخلا جانے کی خوہش کا اظہار کرنا پڑے ، لیکن مصیبت انسان سے بہت کچھ کراتی ہے، ہم نے بھی کیا اور اسکول دور کی ایک آزمودہ ترکیب سے کام لیتے ہوئے اپنی چھنگلی اٹھا کر مسکراتے ہوئے اٗس کی طرف دیکھا، ہائے رے اٗس کی خود سپردگی اور خدمت گزاری کہ اٗس نے ہماری انگلی پکڑی اور ہماری محمل کے ایک کونے میں جا کر پھر جادو کے انداز میں اپنے ہاتھ کو گردش دی ، یہ لو ہوا میں اڑتے ہوئے ہمارے سامنے دیوار میں ایک بیت الخلاء نمودار ہو گیا، اب اس سے بڑھ کر کیا ہو سکتا ہے، ہم جلدی سے اُس سے ہاتھ چھڑا کر اندر بھاگے اور نیچے اٗڑتے ہوئے تمام پرندوں اور بادلوں اور کسی حسینہ کی ہتھیلی کی لکیروں کی طرح پھیلی ہوئی گلیوں اور سڑکوں سے معذرت کرتے ہوئے بیٹھ گئے۔ 

باہر آ کر ہم نے پھر ایک طائرانہ نگاہ افق پر ، بادلوں پر پرندوں پر اور نیچے پھیلی ہوئی ارض خدا پر ڈالی، لیکن اس بار وہی مناظر دیکھ کر کچھ زیادہ جذباتی نہ ہو سکے، نیند تو پہلے ہی پوری کر چکے تھے سو اب سونے کا بھی امکان نہ تھا، ، کانوں پر لگی زیتون کی شاخ سے نکلنی والی موسیقی سے بھی دل بھر سا گیا، اب کیا کیا جائے ، ہم نے اپنے پنگھوڑے نما صوفے کی جیب میں ہاتھ ڈالا اور کچھ میگزین موجود پا کر خاصے مطمئن ہوئے لیکن کتنی دیر پندرہ منٹ کے بعد ان کو تہہ کر کے واپس پھینک دیا اور غصے میں آنکھیں موند کر گردن پیچھے ڈھلکا دی۔ 

چالیس پینتالیس منٹ کے بعد جب ہمارا کھٹولہ زمین پر اترا اور ہم اٹھ کر نیچے اترنے لگے تو دونوں پریا ں مسکراتے ہوئے بڑے مؤدب انداز میں بولیں ، حضور کچھ شکایت کوئی پریشانی، ہم نے نا گوار سا منہ بنا کر کہا ، آپ کی ائر لائن تو اچھی ہے لیکن چھوٹے جہاز استعمال کرتے ہیں اگر یہی سفر ایئر بس پر ہوتا تو پورے پچیس منٹ جلدی پہنچ سکتے تھے۔ 

ائر پورٹ سے نکل کر میں ٹیکسی کے لئے ادھر ادھر نظریں دوڑاتے ہوئے تصور میں ابا جی سے ہی باتیں کر رہا تھا اور یہ فیصلہ نہیں کر پا رہا تھا کہ بیس سال پہلے لگائی گئی شرط آج ابا جی کے مرنے کے دس سال بعد میں ان سے ہار گیا ہوں یا نہیں ۔

زندگی ، ریاضی اور "لا" کی قیمت۔


ہمارے خیال میں زندگی کے اکتالیسویں بیالیسویں برس یہ مان لینے میں کوئی حرج نہیں کہ ہمیں زندگی کی سمجھ نہ آ سکی۔ 

کم از کم اب تک تو بالکل کوئی بات پلے نہیں پڑی اب آگے کیا ہوتا ہے یہ وہی جانے جس نے یہ گورکھ دھندہ یا تانا بانا بُنا ہے۔ ہاتھی گزر گیا دم باقی رہ گئی اب اگر سمجھ آ بھی گئی تو دم کے بارے میں ہی آئے گی ہاتھی تو گیا۔

لیکن آپ کو یہ جان کر شاید حیرت ہو گی ہم اس ناسمجھی پر بہت خوش اور شکر گزار ہیں۔ اصل میں زندگی کے ساتھ ہمارا سمجھنے کا تعلق کچھ ایسا ہی رہا جیسا کہ پہلی دوسری جماعت سے لے کر میٹرک تک ریاضی کے مضمون کے ساتھ ہمارا رشتہ رہا، ریاضی کی سمجھ بھی ہمیں اٗس وقت آئی جب میٹرک کے بعد یہ غیر ضروری مضمون ہی نصاب سے نکال دیا گیا یا کم از کم اختیاری ہونے کی وجہ سے ہماری زندگی سے باہر نکل گیا۔ ریاضی میں بھی ہمیں اسی طرح کے مسائل کا سامنا رہتا تھا جسیے مسائل ہمیں زندگی میں درپیش رہے، مثال کے طور پر ہم نے اپنے ریاضی کے ماسٹر صاحب سے جب یہ سوال کیا کہ استاد جی آپ نے تختہ سیاہ پر یہ جو سوال لکھ کر حکم دیا ہے کہ معلوم کرو کہ یہ مساوات برابر ہے کہ نہیں، تو جب ہمیں معلوم ہی نہیں کہ یہ برابر ہے بھی یا نہیں تو ہم اسے مساوات کیوں کہہ رہے ہیں۔ آپ کا سوال تو یوں ہونا چاہیے کہ معلوم کرو کہ یہ مساوات ہے کہ عدم مساوات ماسٹر صاحب نے پہلے تو چند لمحے اپنے گریبان کی طرف کچھ غور کرنے کے انداز میں جھانکا یا شاید فقط دیکھنے پر ہی اکتفا کیا ہو اور اور پھر ہمیں ایک ہاتھ پر چار اور دوسرے پر تین چھڑیاں بڑے ظالمانہ انداز میں لگا کر کہا ، بیٹا یہ مساوات برابر نہیں ہے اور پھر دوسرے ہاتھ پر ایک اور چھڑی رسید کرتے ہوے بولے۔۔۔۔اےےے۔۔۔یہ لو اب یہ برابر ہو گئی۔

معمولات زندگی میں بھی اگر کبھی خدا سے کلام کرنے کا موقع ملا اور ہم نے از راہ اشتیاق ہی ہولے سے کہہ دیا کہ اللہ میاں کیا یہ بے انصافی نہیں ہے کہ ہم پڑھ پڑھ کر اور محنت کر کر کے بھی بیس ہزار کے ملازم اور ان پڑھ چوہدری صاحب کا جاہل بیٹا پٹواری بن کر ایک ہی سال میں کوٹھی اور پاجیرو کا مالک تو بالکل ریاضی کے ماسٹر صاحب کی طرح اللہ میاں نے اوپر نیچے پانچ سات لگائیں، مثال کے طور پر غیب سے لگی لگائی نوکری جانے کا امکان پیدا ہو جانا، ہنستے بستے گھر میں اچانک طلاق تک نوبت پہنچ جانا اور ہٹے کٹے وجود کو تین چار بیماریوں کا گھیر لینا اور پھر تھوڑا سا ٹھیک ٹھاک کر کے ہم سے شکرانے کے نوافل ادا کرا کے وہ ذات کریم بولی ، ہاں اب سناؤ مساوات ہے یا عدم مساوات۔

ہم جب پانچھویں جماعت میں پہنچے تو اچانک یہ الجبرا نام کا چھلاوہ ایک پورا دیو بن کر ہمارے سامنے آن کھڑا ہوا۔ نئے نئے ماسٹر جی تھے ہم بھی کچھ بڑے بڑے سے ہو رہے تھے بڑے پیار اور احترام آمیز سے جذبے سے بولے میرے بچو آج ہم ایک نئی طرح کا سوال حل کریں گے، تختہ سیاہ پر حروف اور ہندسوں کی ایک لمبی سطر لکھ کر بولے ، اس سوال میں ہمارا مقصد ہے "لا" کی قیمت معلوم کرنا ، ہم اسلامیات کی وجہ سے عربی میں کچھ بہتر تھے فورا بولے ماسٹر جی لا کا مطلب ہے نہیں۔ وہ ایک دم کچھ بولتے بولتے رہ گئے جیسے ہمارے ابا جی ہمیں موٹی سی گالی دینے سے پہلے کبھی کبھی رک جایا کرتے تھے، اور پھر کچھ توقف کر کے بولے بیٹا لا کا مطلب نہیں۔۔۔ لا کی قیمت معلوم کرنی ہے ۔ اب اس وقت ہم بیالیس برس کے ہوتے تو فورا کہہ دیتے ماسٹر جی یہ قیمت معاشی لحاظ سے معلوم کرنی ہے مذہبی لحاظ سے ادبی لحاظ سے یا عائلی ضابطوں کے اندر کیوںکہ بیوی کے سامنے لا کے معنی ہیں اس دن کا کھانا نہیں ملے گا، ملا جی کے سامنے لا کا مطلب ہے سیدھا جہنم میں ایک نقاد کے سامنے لا کا مطلب ہے کہ آپ کی ساری تخلیقات ثابت شدہ سرقہ ہیں لہٰذا آپ ایک تخلیق کار نہیں ایک گھسیارے ہیں اور دفتر میں باس کے سامنے لا کا مطلب ہے آپ نوکری سے یا کم از کم پروموشن سے فارغ۔۔۔ لیکن پانچویں جماعت میں بیالیس سال کا ذہن کچھ مناسب نہ لگتا سو شاید ہم خاموش ہی رہے تھے، لیکن ایک گھنٹے کا پیڑیڈ ختم ہونے کے قریب قریب ماسٹر صاحب نے پورا تختہ سیاہ سفید کرنے کے بعد بتایا کہ لا کی قیمت صفر ہے۔

حلفا کہتے ہیں کہ زندگی میں بھی یہی کچھ ہوا، شادی الجبرے ہی کی ایک ترقی یافتہ قسم ہوتی ہے، بہت سی باتیں نہ چاہتے ہوئے بھی جبراؑ قبول کرنا پڑتی ہیں اور بہت سی خواہشیں پوری نہ ہونے کے باوجود مساوات میں برابر دیکھانا پڑتی ہین۔ اور پھر شادی کے دس سال بعد لا کی قیمت صفر ہی نکلتی ہے۔ ہاں شادی کے الجبرے میں یہ فرق ہے کہ یہاں فقط لا کی نہیں بیگم کی ویلیو معلوم کرنا پڑتی ہے جو زمینی حقائق کے پیش نظر کبھی صفر نہیں آئی چاہئے ورنہ بیوی زیورات اور بچوں کو لے کر میکے چلی جاتی ہے اور آپ گھر کی مساوات کے دونوں طرف الو کی آنکھوں کی طرح صفر کی صورت مخبوط الحواس بیٹھے نظر آتے ہیں۔

ریاضی اور بالخصوص الجبرے میں ایک اور بڑی عجب شے تھی ، جس کا نام تھا " فرض کیا" ماسٹر صاحب جب ہمیں کہتے پیارے بچو فرض کیا لا کی قیمت ایک ہے تو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ہمیں کبھی سمجھ نہ آئی کہ ہم فرض کر کے سوال کا جواب کیسے تلاش کر سکتے ہیں۔ لیکن جواب نکل آتا تھا ، اکثر وہی صفر یا زیرو۔۔۔۔۔ عملی زندگی خاص طور پر برادری اور حلقہ احباب کی ضرورت و اہمیت کے سلسلے میں ہمیں جب بھی کبھی نا سمجھی نے گھیرا تو یہ فرض کیا ہمارے بہت کام آیا۔۔۔ ماسٹر جی فرض کر کے مساوات کے تمام حروف و اعداد کو کاٹتے اور مٹاتے جاتے تھے اور آخر میں فقط ایک لا اور ایک اُس کی قدر و قیمت رہ جاتی تھی ، بڑے ہو کر برادری اور جان چھڑکنے والے احباب کے لئے بھی جب کبھی ہم نے فرض کیا کہ ہم پر کوئی مصیبت نازل ہو گئی ہے یا اپنے آپ کو انسان ثابت کرنے کے چکر میں فرض کیا ہم سے کوئی خطا سرزد ہو گئی تو کاٹنے اور مٹانے کی ضرورت ہی نہ پڑی زندگی کے تختہ سیاہ پر سے تمام رشتے اور تمام سہارے خود بخو د محو ہونے لگے اور آخر میں ایک ہم اور ایک ہماری قیمت یعنی صفر رہ گئے۔

ایک دن ہم سے ایک دہریہ کہنے لگا فرض کیا خدا نہیں ہے، ہم نے کہا اوہ اب کیا ہو گا اب تو کائنات رک جائے گی، لیکن قسم سے ایک لحظے کو نہ رکی ، بولا اب سب دعائیں بھول کر، بد دعائیں دینا چھوڑ کے با عمل ہو جاؤ کیونکہ رزق مقدر میں نہیں ہے کام کرو گے تو کھاؤ گے ، زندگی موت اللہ کے ہاتھ میں نہیں ہے کے چاہے گا تو مارے گا چاہے گا تو بچا لے گا بلکہ عقل سے کام لو اور خطرات و نقصان سے خود بچو اور فائدے اور صحت کو خود حاصل کرنے کے لئے ہاتھ پاؤں مارو، ہر نتیجے کو قیات تک نہ ٹالو اور اپنی ہر خباثت کا ذمہ دار شیطان کو سمجھنا چھوڑ دو بلکہ اسی دنیا میں اعمال کے نتائج سوچ سمجھ کر ان پر عمل پیرا ہونا شروع کر دو۔۔۔۔یقین مانیے اگر ہم کچھ دیر یہ فرض کیئے رہتے تو پتہ نہیں ہم کہاں سے کہاں پہنچ جاتے لیکن ہم فورا بھانپ گئے کے کم بخت ہمیں بھی راہ راست سے ہٹا کر جہنمی کرنا چاہتا ہے لہٰذا فورا ہی تائب ہوئے اور اگلے ہی لمحے اپنا سب کچھ پھر اللہ اور شیطان پر ڈال دیا۔ 

ذات برادری اور فرد و معاشرے جیسے چھوٹےچھوٹے سوالوں سے نکل کر جب ہم مجموعی طور پر کائنات مذہب تاریخ اور حیات کے بڑے امتحانی سوالوں سے روشناس ہوئے تو ضرورت محسوس ہوئی کہ اب ہماری پرائمری کی ریاضی سے کام نہیں چلے گا ، اب چونکہ سوال زیادہ لایعنی اور مضحکہ خیز ہیں اس لئے ریاضی کا بھی کوئ بڑا چغد ہونا چاہئے جس کی مشقوں اور سوالات سے ہمیں شاید کچھ کمک پہنچ سکے، خدا بھلا کرے چغد اعظم فیثا غورث کا کہ جس نے ہم سے بہت پہلے کہہ دیا تھا کہ ساری کائنات اور یہ رنگ و بو کا سارا تانا بانا ہندسوں کا کھیل ہے اور کچھ نہیں ہے اور اس کا حاصل فقط ایک صفر ہی آتا ہے ہم بحثیت ایک کٹر "مسلمان" کچھ تذبذب کا شکار تھے کہ دور جاہلیت کے ایک منکر و مشرک کے جوابوں سے مدد لیں یا نہ لیں کہ ایک اللہ لوگ نے بتایا کہ فیثا غورث درست کہتا ہے، لا موجود ال اللہ۔۔۔۔۔اب آپ ہی بتائے کہ ہم شکر ادا نہ کرتے تو اور کیا کرتے کہ ہماری نا سمجھی کا بھرم رہ گیا اور ہم یہ جان گئے کہ جس شے کی ہمیں سمجھ نہ آئی وہ خیر سے ہے ہی نہیں۔ 


غلط فہمی۔



میں آپ لوگوں کو بتا رہا ہوں کہ یہ سارا فساد یہ سب خرابی اِس اسلام کی وجہ سے ہے


اس سے جان چھڑا لو، اسے اپنے بیچ میں سے نکال پھینکو تو امن ہو جائے گا ، سب مسائل سے جان چھوٹ جائے گی۔


توبہ توبہ، اللہ کا نام لو عارف ، توبہ کرو ،کیسا کفر بک رہے ہو


عبداللہ دوکاندار اپنے دونوں کانوں کو پکڑ کر باقائدہ کھینچتے ہوئے بولا وہ توبہ کرتے ہوئے ہمیشہ کانوںکے ساتھ ناک کو بھی پکڑا کرتا تھا لیکن اسے یاد تھا کہ محلے داروں کے دکان پر اکھٹے ہونے سے کچھ ہی دیر پہلے اُس نے سو روپے پاؤ اور پچاس روپے پاؤ والی مرچوں کو ملا کر نئی تھیلی تیار کی تھی اس لئے ناک کو ہاتھ لگاتے ہی اُسے چھینکیں شروع ہو جائیں گی لہٰذا اس نے ناک چھونے کی عادت کانوں کو قدرے زیادہ کھینچ کر ہی پوری کر لی۔


جب سے چاچا اللہ دتہ فوت ہوا تھا بڑے حاجی صاحب نے چاچے کی بیوہ چاچی حمیداں کے لئے زکوۃ کا دو ہزار مقرر کر دیا تھا جو وہ ہر مہینے باقائدگی سے عبداللے کے دکان پر دے جایا کرتے، دکان پر اس لئے کہ گواہان کی موجودگی کی سند رہے اور "بوقت ضرورت" کام آئے۔


چاچی حمیداں جو زکوۃ کے پیسے پتہ کرنے دکان پر ائی تھی نے عارف کی بات سن کر اپنی میلی چادر پوری طرح کانوں ، منہ اور ناک کے گرد لپیٹ لی جیسے عارف کی بات سے بُو آ رہی تھی۔ چاچے کے مرنے اور حاجی صاحب کی طرف سے پیسوں کا انتظام کرنے کے بعد اُسے دین کی اتنی تو سمجھ آ گئی تھی کہ اس طرح کی بات کرنے والا ہر بندہ دوزخ میں جائے گا۔


بوڑھا بابا غلام نبی اینٹوں کی چوکی پر پڑی پرانی اخبار پر بیٹھا بیٹھا عارف کو ایسے سہم کر دیکھنے لگا جیسے اُس نے ایک دن اپنے صحن کے وسط میں پڑے ہوئے اُس خط کو دیکھا تھا جو اُس کی بیٹی گھر سے بھاگنے سے پہلے چھوڑ گئی تھی۔


حمید گجر عرف میدا پہلوان احاطے کی اس پرانی دکان کے سامنے پڑی ڈھیلی چارپائی کے درمیان سے کھسک کر کنارے پر آگیا تھا اور اپنی ران پر ہاتھ رکھے ہوئے سر کو جھکا کر یوں خونی نظروںسے عارف کو دیکھنے لگا جیسے بیل سرخ کپڑے کو دیکھتا ہے۔ وہ بس اس انتظار میں تھا کہ عارف ایک بات اور کرے تا کہ اُسے یقین آ جائے کہ جو کچھ اس نے سنا ہے صحیح سنا ہے تو وہ جھپٹ کر عارف کو ٹانگوں سے اٹھائے اور روڑی والی زمین پر پٹخ کر ٹھنڈا کر دے


ملک سیاسی بندہ تھا وہ جذبات سے نہیں گہری سوچ بچار سے کام لینے کا عادی تھا،


پرانی کرسی پر بیٹھے بیٹھے مونچھوں کو تاؤ دیتا ہوا کسی گہری سوچ میں سے نکل کر بولا


اوئے عارفے تمھیں پتہ ہے تو کیا کہہ گیا ہے اور اس کا کیا نتیجہ نکل سکتا ہے


ملک کی بات سُن کر بابے غلام نبی کی ڈھارس بندھی تو وہ بھی بولا


بیٹا کیا تمھاری نظر میں بزرگوں کی یہ عزت یہ مقام رہ گیا ہے


عارف حیرت زدہ ہو کر سوچ میں پڑتے ہوئے بولا ۔۔۔۔ بزرگ ۔۔۔ 


اور پھر کچھ سمجھتے ہوئے اچھل کر بولا


او نہیں چاچا ۔۔۔اللہ والَیو۔۔۔۔ مجھے تو یاد بھی نہ تھا کہ تایے دینو کا بھی پورا نام اسلام دین ہے


وہ تو ہمارے سر کے صاحب ہیں ہمارے لئے رحمت کا باعث ہیں


میں تو اس اٹھائی گیرے اُس خبیث اسلام کی بات کر رہا تھا جو ہمارے محلے میں نیا آیا ہے اور


جس کی وجہ سے آئے روز جھگڑا فساد ہو رہا ہے۔










Saturday, January 3, 2015

پیپلی دا بوٹا۔




رب کا نام لے کر کرمو نے گندم کی ڈھائی منی بوری ایک جھٹکے سے اٹھا کہ اپنے کندھوں پر رکھی اور آٹھ دس مکانوں کے اپنے چھوٹے سے گاؤں سے باہر نکل کر چکی کی طرف جانے والے رستے پر ہو لیا۔ کل کی پسوائی کا نمبرلے کر اور ابھی کے ابھی کچھ دانے پسوا کر رات کے لئے آٹا لے کر واپس بھی آنا تھا۔پکی سڑک پر پڑتے ہی اسے محسوس ہوا کہ رستہ لمبا ہے اور بوجھ زیادہ وہ پیپلی کی طرف سے ہو کر جانے والی پگڈنڈی پر ہو گیا۔ دوپہر ڈھل رہی ہے فضلو چاچا پیپلی کے نیچے اپنے منجے پر آچکا ہو گا اور اللہ دتہ اور پیجی تو پہنچ ہی چکے ہوں گے کچھ دیر دم لوں گا گپ شپ ہو گی اور پھر آگے چکی کی طرف نکل چلوں گا۔
ابھی وہ پیپلی سے دور ہی تھا کہ چاچے کی آواز اسے اپنی طرف کھینچنے لگی،

آ سجن گل لگ اساڈے، کیہا جھیڑا لایو ای ۔۔۔۔۔
ستیاں بیٹھیاں کجھ نہیں ڈٹھا جاگدیاں شوہ پایو ای۔۔۔
 قم باِذنی شمس بولے اُلٹا کر لٹکایو ای۔۔۔۔۔
عشقن عشقن جگ وچ ہوئیاں دے ولاس بٹھایو ای ۔۔۔
میں تیں کائی نہیں جدائی پھر کیوں آپ چھپایو ای۔۔۔۔۔
مجھیں آیاں ماہی نہ آیاپھوک برہوں ڈولایو ای۔۔۔

اللہ دتے نے بھاگ کر اُس کی بوری کو اپنے کندھوں پر لے لیا۔کرمو اور اللہ دتہ پیپلی کی چھاؤں میں پہنچے تو سب نے باری باری کرمو سے حال احوال پوچھا، پیجی نے چاچے فضلو کے منجے کے پاس گیلی مٹی پر رکھے گھڑے سے ٹھنڈے پانی کا کٹورہ بھر کے اس کے ہاتھ میں دیا اور ہاتھ کا پنکھا اس کے لئے رکھتے ہوئے ایک طرف ہو کر اسے اپنی جگہ پر بیٹھے کا اشارہ کیا۔ خوشیا ، پیجی، کالا اور اللہ دتہ چاچا فضلو کے شعروں میں کھوئے ہوئے تھے۔ چاچے فضلو نے حقے کا گہرا سا کش لیا اور کرمو سے بولا ، اچھا کیا پتر جو ادھر سے آگیا، پڑاؤ بھی منزل ہی ہوتا ہے۔ یہ درختوں کی چھاؤں بھی ایک دلیل ایک نشانی ہے۔

کالا جس کا اصل نام کمال دین تھا سامنے والے گاؤں کے چوہدری کا ٹریکٹر چلاتا تھا اور فارغ وقت میں چاچے کے پاس آ کر بیٹھا کرتا تھا، دھوپ ہو یا بارش کالا سر پر خوب سا سرسوں کا تیل لگاتا اور دنداسہ ، کنگھا ہر وقت اپنی سامنے والی جیب میں رکھتاتھا ، کرمو کی بات سن کر حسب معمول خاموش نہ رہ سکا اور بولا،اوئے چاچا بھی ٹھیک ہی کہتا ہے پر تو نے سیدھی راہ چھوڑ کر اتنا لمبا پینڈا کیوں مارا،،،،،اوئے چپ رہا کر کھوتے دے پتر، سیدھے تو ڈور ڈنگر چلتے ہیں، فصلیں برباد کرتے ہوئے، باڑوں کو توڑتے اور منڈھیروں کو پھلانگتے ہوئے، منہ اٹھائے نہ دائیں کی فکر نہ بائیں کی پرواہ۔ انسان تو رستوں پر چلتے ہیں۔ پتر بوجھ اٹھایا ہو تو پڑاؤ ضروری ہوتا ہے، سنگ ساتھ راستے کی صعوبت کو کم او ر پڑاؤ منزل کی آگاہی کو بڑہاتا ہے۔ کالا اپناسا منہ لے کر رہ گیا۔

گہری عقابی نظروں، چوڑے چکلے سینے اور بھرے بھرے سڈول شانوں والا چاچا فضل دین گاوٗں کا بڑا تھا، بہت کھرج دار اور سریلی آواز میں ہیر اور قافی گاتا تھا، اپنے پھلوں کے پودوں اور سبزیوں کی کیاری کرتا ،حقہ پیتا رہتا یا اپنی شام لگی بید کی چھڑی سے مٹی کے ڈھیلے توڑتا رہتا اور گالیوں کی زبان میں نصیحت بلکہ بات کرتا۔ گاؤں کی مٹی میں مٹی ہونے، کھردرے ننگے منجے پر بیٹھے رہنے اور دو دو دن پیٹ بھر کھانا نہ کھانے کے باوجود چاچے فضل دین کی وضع قطع میں ایک بانکپن ایک نفاست تھی ، سرخ و سفید چہرے پر ایک جلال ایک زندگی موجزن رہتی ۔ اگر کبھی کوئی چاچے کے سامنے کہہ بھی دیتا کہ چاچا گالی بکنا تو اچھی بات نہیں ہے تو چاچا بڑاے اطمینان اور یقین سے کہتا، پتر میں گالی کب بکتا ہوں قسم لے لو جو میں نے آج تک کسی کو گالی بکی ہو اچھا بتاؤ وہ سامنے کیا ہے، چاچا گدھا ہے اور کیا ہے، اوئے پتر بری بات کسی کو گدھا کہنا کتنی بری بات ہے، پر چاچا وہ تو ہے ہی گدھا اب گدھے کو گدھا نہ کہیں تو بھلا اور کیا کہیں، اوے کملیو میں بھی تو یہی کہتا ہوں ، بس فرق اتنا ہے کہ میں گدھے کو گدھے کا پتر کہتا ہوں اب تم ہی بتاؤ کیا دنیا میں کوئی ایسا گدھا ہے جو گدھے کا پتر نہ ہو۔
 (جن قارئیں کی نظریں اگلی سطروں میں چاچے فضلو کا دین یا مسلک تلاش کرنے کی کوشش کریں گی ان سے پیشگی معذرت کیوں کہ انہیں مایوسی ہی ہو گی، ضروری نہیں کہ چاچا فضلو، سنی یا شیعہ ہی ہو یہ بھی ممکن ہے کہ وہ انسان ہوا ہو۔ ویسے بھی ،
جاتی نہ پوچھو سادھو کی، پوچھ لیجئے گیان۔۔۔۔مول کرو تلوار کا پڑی رہن دو میان۔۔۔)

چھوٹے سے گاؤں کے تمام لوگ، کھیت کھلیان، بیل بوٹے اور ندی نالے چاچے فضلو کی سادہ اور سچی مگر گہری باتوں میں کسی نہ کسی طرح رنگے ہوئے تھے ، ساون میں مٹی سے پھوٹنے والے سوندھی سوندھی بو کی طرح چاچے فضلو کی باتوں کا بھی ایک ہالہ تھا ایک سحر تھا جس نے گاؤں میں ہر ایک شے کو ایک انجانے سے بندھن میں باندھا ہوا تھا ۔ چاچے کی شخصیت میں مٹی جیسی سادگی اور گھاس جیسی عاجزی کے باوجود ماں کی طرح کا ایک تقدس بھی تھا۔ جب وہ ہیر گاتا یا کوئی کافی پڑھتا یا بابا بلھے شاہ کے اشعار تحت اللفظ ہی دور تک بچھے کھیتوں کو سناتا تو اس کی شخصیت میں دونوں رنگ اپنا جوبن دکھاتے، پاؤں میں بچھے ہوئے راستوں کی عاجزی بھی اور سامنے ایستادہ آسمان سے باتیں کرتے ہمالہ کے پہاڑوں کی شان و شوکت اور سر بلندی بھی۔ درختوں پر بیٹھے پرندے جیسے اس کے لہن و سوز میں کھو کر دم بخود ہو جاتے، افق گھڑے کی طرح اُس کی آواز کو گونج دینے لگتے اور زمین دف کی طرح اپنا سینہ اس کی لَے پر دھڑکانے لگتی۔
پیپلی کے اس بوڑھے بوٹے کے نیچے ایک بڑا سا منجا ، ایک ٹھنڈا گھڑا اور بہت سی یادیں ہر وقت پڑی رہتیں، دوپہر ڈھلتے ہی اللہ دتہ منجا پچھا تا، گھڑے کو دھو کر تازہ پانی سے بھرتا اور چاچا اپنے حقے کے ساتھ آ کر یہاں بیٹھ جاتا اور پھر شام تک کوئی نہ کوئی یہاں آتا جاتا رہتا۔

چاچا یہ وسیلہ کیا ہے واسطے کا کیا مقام ہے ۔کرمو نے اپنی چادر کے کونے سے ماتھے پر بچے پسینے کے قطرے صاف کرتے ہوئے دھیرے سے پوچھا۔چاچے کے دل کے دیئے میں جیسے کسی نے گھر کے گھی کا کٹورہ انڈیل دیا ہو۔ حقے کا گہرا سا کش لے کر دور کوئیں پر پانی نکالتی عورتوں کی طرف دیکھتے ہوئے بولا،اوئے پتر کیا تو نے کبھی کوئیں سے پانی نہیں نکالا یا کبھی سیڑھی لگا کر چھت پر دانے ڈالنے نہیں چڑھا، پتر وہ سوہنا اللہ عقل کو دماغ میں اور دماغ کو بدن میں ڈالے بغیر اپنے سامنے معلق کر کے بھی پرکھ سکتا تھا۔ یہ شعور اور مادے کا ملاپ اسی لئے کرایا گیا کہ باطن کو ظاہر کے بہانے اعتبار ملے ، میرے بچے ریت کے ذرے سے لے کر سورج کے کؤے تک کچھ بھی بے مقصد نہیں ہے یہ سب نشانیاں ہیں یہی اُس سوہنے کی آیتیں ہیں، تیری ماں نے تجھے کبھی کہا کہ جا سیڑھی پر دانے ڈال آ تاکہ خشک ہو جائیں لیکن تو چھت پر جانے کے لیئے پہلے سیڑھی کی طرف ہی بڑھتا ہے، کبھی کسی نے کہا کہ جا ڈول سے پانی لے آؤ ، ہم پانی کنویں سے ہی لاتے ہیں پر ڈول کے بغیر کنویں سے پانی نہیں نکلتا، ڈول کنویں کا حصہ نہیں ہماری محتاجی ہے، سیڑھی تو ہمارے لئے ہے چھت کو سیڑھی کی ضرور ت نہیں ۔

ایک کہوں تو ہے ناہی دو کہوں تو گاری۔۔۔۔۔ہے جیسا تیسا رہے کہے کبیر بے چاری
لیکن چاچا جب قران اور نبی موجود ہے تو کسی اور کی کیا ضرورت، کالے نے ڈرتے ڈرتے حسب عادت لقمہ دیا۔اوئے کملیا، جب اللہ موجود تھا اور شہہ رگ سے بھی زیادہ قریب تھا تو پھر نبی کیوں بھیجتا رہا، اوئے اپنے ارد گرد غور کرو، یہ سب نشانیاں دیکھو، اندھے نہ بن جانا، دیکھو وہ سامنے ہمالہ کے پہاڑ وہ سوہنا فرماتا ہے کہ یہ میں نے زمین میں کیلیں گاڑی ہیں، پتر جب یہ پہاڑ موجود ہیں تو پھر یہ کھیتوں کی منڈھیریں کیوں، یہ ٹیلے ٹبے کیوں، یہ باڑیں کیوں، اوئے میرے چہلیو، وہ کیلیں پوری زمین کے لئے ہیں، وہ سامنے بندھا بند تمھارے گاؤں کے لئے ہے، یہ باڑیں یہ منڈھیریں تمھارے کھیتوں کے لئے ہیں۔ آسمان کے ہونے سے چھت کی ضرورت کب ختم یا پوری ہوتی ہے پتر اوئے۔

اتنے میں گاؤں کے مولوی صاحب اپنی سائیکل پر پیپلی کے پاس سے گزرنے والے رستے پر آتے دکھائی دیئے، کالا انہیں دیکھ کر کچھ متذبذب سا ہو گیا اور اللہ دتے کے پیچھے ہو کر بیٹھ گیا۔ مولوی صاحب لڑکوں کی طرف دیکھتے ہوئے سلام کر کے گزر گئے، چاچے فضلو نے کالے کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر کہا، پتر چڑیاں بازوں سے ڈریں تو کوئی نہیں ہنستا لیکن کوؤں سے ڈرنے لگیں تو عجیب سا لگتا ہے۔ کالا سر کھجاتا ہوا گاؤں کی طرف چل پڑا، کرمو اور پیجی دانے اٹھا کر چکی کی طرف نکل گئے اور چاچا فضلو نیم دراز ہو کر پیپلی کی شاخوں پر نظریں جمائے حقے کے کش لینے لگا۔ 

ملاں آکھیا چونڈیاں ویکھدیاں ایں غیر شرح توں کون ہیں دور ہو اوئے
ایتھے لچاں دی کوئی تھاوٗں ناہیں  پٹے دور کرحق منظور ہو اوئے
انا الحق کہاوناں کبر کر کے  اوڑک مریں گا وانگ منصور ہو اوئے
وارث شاہ نہ ہنگ دی باس چھپے بھاویں رسمسی وچ کافور ہو اوئے

اوئے پترا کوئی برا نہیں اس کے کارخانے میں کچھ فالتو نہیں، یہ ملاں۔۔۔کچی کا قائدہ پڑھانے والے استاد ہیں، تختی لکھاتے ہیں لوگوں کو ۔۔۔۔وہ بھی ضروری ہے۔۔۔مگر حرفوں سے لفظ اور لفظوں سے بات بنتی ہے اور اصل استاد کی ضرورت تو وہاں پیش آتی ہے جہاں باتوں سے رمز نکلتی ہے۔۔۔ہا۔۔۔وہ آگے کے سبق ہیں جو ان کو نہیں آتے۔۔وہاں تو مرشد کی ضرورت پڑتی ہے، چاچا فضلو آنکھیں موندے بولتا جا رہا تھا اور اللہ دتے کو جیسے ٹھنڈے پانی کے کٹوروں سے بڑی دیر کی لگی پیاس بجھانے کا موقع مل رہا تھا۔ نہیں سمجھا۔۔۔اوئے کھوتے دے پتر۔۔۔اب دیکھ ملاں تم کو بتائے گا کہ جھوٹ بولنا بے ایمانی ہے اور چوری کرنا گناہ ہے، لیکن اللہ سوہنا اپنی کتاب میں مزے لے لے کر سناتا ہے کہ جب میرے یوسف نے اپنے بھائی کو اپنے پاس روکنا چاہا تو ہم نے اسے مشورہ دیا کہ اپنی پھوپھو کی طرح اپنے بھائی پر چوری کا الزام لگا دو، یہ پیالہ اس کے سامان میں چھپا دو اور پھر خود ہی لوگوں کے سامنے نکال لینا ، اس طرح تم اسے اپنے پاس روک سکو گے۔ اب ہم کیا کریں گے پتر جب وہ سوہنا خود ہی فرما رہا ہے کہ ہم نے یوسف کو کہا کہ اپنا عمدہ ترین لباس پہنو اور خوب بناؤ سنوار کرو تا کہ تمھارے گھر والوں سے تمھیں سمجدہ کرواؤں۔ اوئے پتر سب اسی کی چلتی ہے ۔یہ سچ جھوٹ، یہ اچھا ئی برائی سب نیتوں کے کھیل ہیں۔تم تو کچھ اور کہتے ہو پر اس نے تو آدھی رات کو اپنے نبی موسیٰؑ کی ماں کو اپنے بستر پر اتنا بے چین کیا کہ وہ بھاگی بھاگی فرعون کے محل میں اپنے خاوند کے پاس پہنچی اور فرعون کے سرہانے ہی اپنے خاوند سے موسیٰؑ کا تخم اپپے کوکھ میں رکھوا لیا۔

لیکن چاچا یہ سب باتیں کھل کر کیوں نہیں بتائی گئیں، یہ عام لوگوں تک کیوں نہیں پہنچ سکیں۔ اوئے سوردے پتر تیرے لئے تیری ماں کے پیروں میں تیری جنت ہے لیکن تیرے باپ کی راحت اس وقت ہے جب وہ اس کے پاؤں گز بھر اوپر اٹھا لے، جو وہ اس کے ساتھ کرتا ہے اس کا توُ تصور بھی نہیں کر سکتا۔ معرفت کا بھی یہی حال ہے ایک گروہ غلاموں کا ہے جس کی بخشش دین کے قدموں میں ہی ہے لیکن ایک گروہ اور بھی ہے جو وہاں تک جاتا ہے جہاں غلاموں کی رسائی نہیں۔

(جن قارئین کو یہ ایک اصلاحی یا مخصوص نظریے کی تحریر لگے وہ شوق سے یہاں پر اختتام کر سکتے ہیں، اور جن کے دین یا عقیدے کی باز گشت انہیں اس پیپلی کے نیچے گھٹن یا اجنبیت محسوس کروا رہی ہو ان کو تو اس افسانے کو شروع ہی نہیں کرنا چاہیئے تھا۔ حقیقی واقعات کسی کی رائے لے کر وقوع پذیر نہیں ہوا کرتے۔ میں جو لکھ رہا ہوں وہی میرا مقصد ہے اور جس طرح سے لکھ رہا ہوں سچائی اسی طرح سے ہے۔)

اللہ دتہ چاچے فضلو کے پاس ہی بیٹھا رہتا تھا، وہیں پیپلی کے منڈھ میں دو تنکے جلا کر چائے بنا لی، وہیں دو بھٹے بھون کر ایک چاچے کو دیا ایک خود کھا لیا اور وہیں چاچے کی ٹانگیں دباتے دباتے ظہر سے عصر کر دی۔ شام گہری ہوئی تو چاچے کو پیپلی اور گاؤں کے درمیان اس کے ایک کمرے کے گھر میں چھوڑا،رات کا حقہ پانی پاس رکھا اور اپنے گھر کی راہ لی۔ 
چاچے فضلو کی ٹانگیں دباتے دباتے اللہ دتہ جیسے خیال ہی خیال میں بولا، چا چا یہ کالا کچھ وکھرا سا ہوتا جا رہا ہے، جیسے بیمار ڈنگر نہیں الگ تھلگ سا رہنے لگتا ، اس کے اندر جیسے کچھ پک رہا ہو، کبھی کبھی تو مجھے لگتا ہے جیسے یہ پاگل ہو جائے گا۔ہاں پتر شکر میں ریت مل جائے تو صاف کرنا بہت اوکھا ہو جاتا ہے، کچھ ہوتے ہیں جو اُس کو بھی صاف کر لیتے ہیں لیکن وہ بھی اوپر والے کا ۶خاص کرم ہوا کرتے ہیں اب مینہ روز روز تو نہیں برستا ناں ورنہ فصلیں کیسے پکیں۔پتر میں ایک آندھی دیکھ رہا ہوں، ایک ریتلا طوفان دیکھنے والوں کو اندھا کر دینے والا، درختوں باڑوں کو گرا دینے والابندھے ہوئے بند توڑ دینے والاطوفان۔ چاچا تمہارے منڈھ سے لپٹے رہیں گے ہمیں طوفان سے کیا لینا دینا۔ تم تو ہو گے ناں چاچا تم تو رہو گے ناں،

جت ول مینڈا متر پیارااوتھے ونج آکھیں میری عاجزی وو
جوگن ہوواں دھواں پاواں تیرے کارن میں مر جاواں تیں ملیاں میری تازگی وو۔
راتیں درد وہیں درماندی مرن اساڈا واجبی وو
لٹاں کھول گلے وچ پائیاں میں بیراگن آودی وو
جنگل بیلے پھراں ڈھونڈیندی کوک نہ سکاں ماری لاج دی وو
کہے حسین فقیر سائیں دا راتیں دھیں میں جاگدی وو

آندھی طوفان میں بس گھاس نہیں گرے گی میرے بچے بس مٹی رہے گی، تم مٹی سے لپٹ جانا، گھاس کی طرح بچھ جانا، نشانی تو بتاؤ چاچا اس خونی طوفان سے ڈرا تو دیا اس کی پہچان تو بتاؤ۔ میرے بچے یہ اُس اوپر والے کا قانون ہے کہ اس نے دنیا میں اچھائی اور برائی کو ایک دوسرے سے ملا کر ایک دوسرے میں چھپا کر بھیجا ہے، دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی تو وہ خود ایک روز کرے گا پر ابھی جہاں جتنی بڑی اچھائی ہے اسی کے پہلو میں اسی کے برابر کی جہالت بھی موجود ہے۔۔۔۔ یہ طوفان بھی وہیں سے اٹھے گا جہاں سے اس کی معرفت کی شمع روشن ہوئی، جہاں سے توحید کا عشق کا زمزمہ اٹھا وہیں پر نفرت کا پھوڑہ بھی پھٹے گا اور اسکا تعفن اس کی پیپ پورے وجود میں پھیل جائے گی۔

چاچا تبلیغ کی کیا اصل ہے۔اللہ دتے نے جیسے آنے والے طوفان کے خوف کو بے دھیانی میں کسی اور طرف موڑنے کی کوشش کی۔ ہا۔۔۔ پتر پھیلایا برائی کو جاتا ہے، خوشبو تو خود پھیلتی ہے ،،،،ہا۔۔۔۔

الف اللہ چَنبے دِی بُوٹی مَن وچ مرشد لائی ہُو ۔۔۔۔۔
نفی اثبات دا پانی مِلیُس ، ہر رَگے ہر جائی ہُو۔۔۔۔۔۔
اندر بُوٹی مُشک مچایا ، جاں پُھلاں پر لائی ہُو ۔۔۔۔۔
 چِر جُگ جِیوے مُرشد باہو، جَیں بُوٹی مَن لائی ہُو۔۔۔

پتر اچھائی تو ایک بیج ہوتی ہے اس احمق کا کیا جو بیج ہاتھ میں اٹھائے سب کو زچ کرتا پھرے کہ یہ اچھا بیج ہے اس سے اچھی فصل نکلے گی، سیانے تو اچھے بیج کو مٹی نرم کر کے اس میں دبا دیتے ہیں اور پھر فصل خود بتاتی ہے کہ بیج کیسا تھا، مٹی نرم کئے اور پانی لگائے بغیر بیج ضائع کرنے سے تو صرف نقصان ہی ہوتا ہے پتر۔ اچھا اب تو جا اور جیسے تجھے سمجھایا تھا بڑے گاؤں کے چوہدری سے بات کر کہ میری باقی زمین کا ایک اور ٹکڑا خرید لے، ہو سکتا ہے پتر کالا اپنی ماں کی بینائی کی وجہ سے پریشان ہو، موتیا ہی ہے ناں کچھ بڑا مسئلہ تو نہیں آپریشن ہو گا تو ٹھیک ہو جائے گی اور پھر میں نے اپنی ایک بچی بھی تو رخصت کرنی ہے اس کا بھی کچھ بندوبست ہو جائے گا، چاچا یہ کالے کی ماں تو ٹھیک ہے پر تیری بیٹی کہاں سے آ گئی ، ہیں۔۔۔ ذرا یہ تو بتا مجھے۔۔۔اللہ دتے نے چاچے کا ہاتھ پکڑ کر شرارت کے انداز میں لیکن حیرت زدہ ہو کر پوچھا۔ اوئے دفع ہو جا تو۔۔۔شودائی کہیں کا۔۔۔۔یہ سب پتے اس پیپل کے ہی ہیں ناں، ایک بھی ٹوٹے تو وہاں سے آتی دھوپ اس کا پتہ دے دیتی ہے۔

آج پھر چلچلاتی دھوپ میں پیپلی کی ٹھنڈی چھاؤں میں چاچے فضلو کے منجے پر ایک دنیا بسی ہوئی تھی، اگلے مہینے ساون کے شروع ہونے کے ساتھ ہی شعروں کی محفل ہونی تھی اور سب کسی نہ کسی تیاری میں چاچے سے مشورے لے رہے تھے۔

چاچے فضلو نے سلطان باہو کی ایک قافی ختم کرتے ہوئے سب کو اپنے اپنے تیار کیے ہوئے شعر سنانے کو کہا۔ کالا جو چاچے کے چہرے کی طرف دیکھ رہا تھا اچانک درمیان میں بول پڑا۔۔۔چاچا کیا شعر گا کر سنانا حرام نہیں ہو جاتا۔۔۔۔۔چاچے کے چہرے پر وہی اثرات ابھرے جو پچھلے سال کرمو لوگوں کی تیار فصل میں اچانک آگ بھڑک اٹھنے پر ابھرے تھے، جس نے دیکھتے ہی دیکھتے پکی ہوئی فصل کا سارا کھیت خاکستر کر دیا تھا۔۔۔۔۔
پتر اللہ خود سوہنا ہے اور سوہنی چیزوں کو پسند کرتا ہے، اللہ سوہنے نے گدھے کی آواز کو سب آوازوں میں نا پسند کیا ہے۔ کیا پرندوں کے چہچہانے، فصلوں کے لہلہانے، بادلوں کے گرجنے، بارش کے برسنے کو سنتے نہیں ہو، کیا یہ دور تک بچھی چلی جاتی گھاس اور بیچ بیچ میں شعروں کی طرح سیدھے اور اوپر اٹھتے ہوئے درخت نہیں دیکھتے، کیا جمے ہوئے بلند پہاڑوں میں سے بہہ بہہ کر نکلتے ہوئے چشمے اور ندی نالے تمھیں کچھ نہیں سناتے، دیکھ پتر اوئے، یہ چھوٹا سا تنکا مشکل سے دو حصوں میں بٹ سکتا ہے لیکن یہ بڑی شاخ مڑ بھی سکتی ہے، جھک بھی سکتی ہے، بڑھ بھی سکتی ہے اور اپنے بہت سے حصوں میں سے مختلف پتے اور کونپلیں بھی نکال سکتی ہے یہی مثال ہے میرے بچے بس یہی حال ہے چھوٹے اور بڑے ذہن کی۔۔۔۔لیکن چاچا مولوی صاحب تو۔۔۔۔اوئے تیرے مولوی کی ماں کی ۔۔سری۔۔۔۔مولوی تو کل سپیکر پر قرآن کی تلاوت کر رہا تھا اور میں ادھر کھیت میں رفع حاجت میں مصروف تھا۔ نہیں چاچا مولوی صاحب بتا رہے تھے کہ ایک دفعنبی پاکﷺ کا کہیں سے گزر ہوا تو گانے کی آواز آرہی تھی جس پر انہوں نے اپنے کان بند کر لئے اور حضرت علی کو حکم دیا کہ جب آواز آنا بند ہو جائے تو مجھے بتانا۔۔۔۔اوئے توں وی کھوتے دا پتر اور تیرا مولوی بھی ، اوئے تیری بات کا مطلب تو یہ ہوا کہ گانا سننا اور دھیان لگا کر پورا سننا نبی پاک کا حکم ہو گیا ۔ اوئے پتر حکم کے درجے ہوتے ہیں، ہر پھل کا ایک موسم اور ہر بات کا ایک وقت ہوتا ہے۔ تیر ا مولوی سپیکر پر کہتا رہتا ہے کہ کتا پالنے سے گھر میں فرشتے نہیں آسکتے اُس الو کے پٹھے سے کہنا کہ جب مرنے لگے تو گھر کے باہر ایک کتا باندھ لے نہ عزرائیل آئے گا نہ اُس کی جان نکلے گی۔ اوئے کتے کی جان بھی تو کوئی نکالتا ہے یا نہیں۔

بڑا ہوا تو کیا ہواجیسے پیڑ کھجور۔۔۔۔۔پنتھی کو چھایا نہیں پھل لاگے اتی دور

لیکن چاچا شرک کی تو کوئی معافی نہیں۔۔۔کالے کی بجائے پیجے نے بات بڑھائی جو منجے کے کونے پر کرمو کے پیچھے بیٹھا کسی سوچ میں گم تھا۔ چاچے فضلو نے دور کرمو کے کھیتوں کی طرف حیرت بھری نگاہ دوڑائی جیسے آگ پچھلے سال نہیں بلکہ ابھی لگی ہو اور ایک کونے سے دوسرے کونے تک پھیلتی جا رہی ہو۔ چاچے فضلو نے گاؤں کے دوسرے کونے سے نظر آنے والی مسجد کے سپیکر پر نظریں جمائیں اور حقے کا گہرا کش لیتے ہوئے بولا۔۔۔۔اُس سوہنے اللہ کے سوہنے نام ۔۔وہ خود کہتا ہے کہ میں ظاہر بھی ہوں اور باطن بھی ، اب جو اُسے دیکھتے ہیں ، اُس کی نشانیاں پہچانتے ہیں وہ بھی اُس کے نام کی دلیل اور جو نہیں دیکھتے وہ بھی اُس کے باطن ہونے کی تصدیق ہی کرتے ہیں، کس کی مجال ہے جو اُس کے ساتھ کسی کو کھڑا کرے۔۔۔کملیو، اندھے کو کیوں کہتے ہو کہ دیکھو سورج نکلا ہوا ہے، اندھے کو کہو کہ جب تمھیں دھوپ لگتی ہے تو وہ سورج ہوتا جوتپش دیتا ہے۔

جیسے تِل میں تیل ہے، جیوں چکمک میں آگ۔۔۔۔۔تیرا سائیں تجھ میں ہے تو جاگ سکے تو جاگ۔

اچھا اب مجھے چھوڑو، تم لوگ جاؤ یہاں سے، جاؤ سب کے سب، اللہ دتے کے سوا سب چلے گئے، چاچا فضلو نیم دراز ہو کر کراہنے لگا، اللہ دتہ ٹانگیں دباتے ہوئے سوچ رہا تھا چاچا اب بوڑھا ہو گیا ہے۔

کرمو آج صبح کی گاڑی سے شہر چلا گیاتھا، نوکری کی ضرورت اور فرق کی وجہ جاننے کی خواہش نے آخر اسے گھونسلے سے باہرگرا ہی دیا۔ گاوٗں کی مسجد میں توسیعی کام ہو رہا تھا جس کی وجہ سے کالا اور پیجی دن کا زیادہ وقت اب مسجد کے کام میں ہاتھ بٹانے میں ہی لگاتے، خوشیا بھی اب کبھی کبھار ہی نظر آتا ، پیپلی کے نیچے بس چاچا تھا اور اللہ دتہ۔ چاچے کی طبیعت اب روز ہی خراب رہتی تھی، کبھی بخارکبھی کھانسی اور کبھی دل کا درد ۔ 
کرمو چھوٹا سا بیگ لئے بس سے گاؤں کے پرانے سٹاپ پر اترا تو اسے یقین ہی نہیں آرہا تھا کہ یہ وہی چھوٹا سا گاؤں ہے یا کوئی شہر ہے ، ۔ وہ دوکانوں کے بیچ سے نیچے اترتی ہوئی چھوٹی سڑک پر پیدل ہی چل پڑا۔ چکی سے پرانے گاؤں تک سب زمینیں آباد ہوچکی تھیں۔ معلوم نہیں کون سی گلی کون سا رستہ میرے گھر جاتا ہے۔۔۔اچانک اس کی نظر پیپلی کے ایک بوڑھے پیڑ پر پڑی وہ بے دھیانی میں اسی طرف چل پڑا۔پیپلی کے پیڑ پر کہیں اشتہار لکھا ہوا تھا تو کہیں کوئی بینر لٹک رہا تھا۔۔ ایک مسجد بن چکی تھی جس کے طہارت خانوں کی دیوار پیپلی کے پیڑ کو کاٹتی ہوئی آگے تک جا رہی تھی دیوار اور پیپلی کے ساتھ الگنی باندھ کر حجام نے وہاں تولئے خشک کرنے کے لئے لٹکائے ہوئے تھے۔ پوری دیوار جنسی علاج کے دعووں ، برائے فروخت زمین جائیداد کے اشتہاروں اور مذہبی فتووں کی عبارتوں سے بھری پڑی تھی۔۔۔ ،طہارت خانوں کی دیوار سے آگے پرانے گاؤں کے درمیان تک ایک بہت بڑا اسلامی مدرسہ بنا ہوا تھا۔ ۔دوسری طرف کچھ دکانیں اور چائے کا ایک چھوٹا سا ہوٹل تھا۔ اسے آتے جاتے لوگوں میں سے صرف ایک دو چہرے ہی جانے پہچانے لگے جو اُسے دیکھ کر آگے نکل گئے باقی تو سب مدرسے کے بچے تھے ایک جیسے کپڑے پہنے ہوئے، سر پر بہت سا تیل اور سامنے کی جیبوں میں کنگھا اور مسواک ۔اچانک اس کی نظر ایک فقیر پر پڑی وہ پیپلی کے منڈھ کے پاس مجذوب سی حالت میں مٹی پر نیم دراز پڑا ہوا تھا اس کے ذہن کا کوئی گوشہ کہہ رہا تھا کہ یہ چہرہ اس کا بہت قریبی ہے لیکن آنکھیں پہچان نہیں پا رہی تھیں ۔۔۔ اوہ میرے اللہ ۔۔۔یہ میں کیا دیکھ رہا ہوں کیا یہ اللہ دتہ ہے۔۔نہیں۔۔۔ یہ حالت۔۔۔چاچا فضل دین۔۔۔۔اس کے ذہن کے گوشے بیدار ہونے لگے۔۔۔وہ تیزی سے اس کے پاس ہوا۔۔۔اوئے دتے یہ تُو ہے۔۔۔اوئے مجھے پہچانا۔۔۔میں کرم الٰہی۔۔۔کرمو۔۔۔۔مجذوب نے آنکھیں کھولیں اور اپنے سامنے ایک خوش پوش ، لحیم شعیم باریش شخص کو دیکھ کر کچھ حیران سا ہو گیا۔ایسے محسوس ہو رہا تھا جیسے وہ مجذوب کچھ سن سمجھ نہیں سکتا اور نہ ہی بات کرنا چاہ رہا تھا لیکن اس کی آنکھوں کی نمی بتا رہی تھی کہ وہ بولنے لگا ہے۔۔۔تم کرمو ۔۔۔تم ۔۔۔۔اتنے برسوں بعد۔۔۔۔اوئے تجھے کیا ہوا دتے، یہ تیری کیا حالت ہے۔۔۔ چاچا فضلو۔۔۔ کالا۔۔۔ پیجی۔۔۔۔چاچا تو یہ لیٹا ہے، دتے نے پیپلی کے منڈھ کے پاس طہارت خانوں کے دیوار کے سائے میں ایک قبر کی طرف اشارہ کیا۔۔۔

کالا اب حاجی کمال دین ہے وہ دیکھو اس کا نام لکھا ہے دتے نے سڑک کے اوپر لگے انتخابی بینر کی طرف اشارہ کیا، چاچے کی قبر پر گاؤںوالوں نے ایک چھوٹا سا مقبرہ بنوایا تھا لیکن مولوی اور کالا حج سے واپس آئے تو اس کو گروا کر چاچے کی زمین پر یہ مدرسہ اور مسجد بنوالی تھی ۔ اب وہ دونوں ان سب دکانوں اور جگہ کے مالک ہیں۔
آپ کرم الہٰی صاحب ہیں ایک لڑکا جس کے بالوں پر بے تحاشا تیل تھوپا ہوا تھا اور سامنے کی جیب میں کنگھی شیشہ اور مسواک رکھی تھی نے پاس آ کر کرم الہٰی سے پوچھا۔۔۔۔ہاں میں ہی ہوں کرم الہٰی۔۔۔کرمو نے قدرے حیرت سے جواب دیا ۔۔۔۔کسی نے مولوی صاحب کو بتایا ہے کہ آپ آئے ہوئے ہیں ، نماز کا وقت ہونے والا ہے مولوی صاحب نے آپ کو بلایا ہے کے نماز ہمارے ساتھ ہیں پڑھیں۔ کرمو نے گھڑی کی طرف دیکھا، اپنی لمبی کالی داڑھی پر ہاتھ پھیرا اور کچھ کہنے کے لئے دتے کی طرف مڑا دتہ کی آنکھیں نیم وا تھیں، اس کا جسم کچھ زیادہ ہی لڑکھا ہوا اور بے جان سا لگ رہا تھا پتہ نہیں کیوں کرمو کو لگا جیسے دتہ نہیں چاہتا کہ اُس لڑکے کو پتہ چلے کہ وہ سُن سمجھ سکتا ہے اور ٹھیک ٹھاک ہے ۔کرمو لڑکے کے ساتھ مسجد کے طرف نکل گیا۔ اُس دن کے بعد وہاں وہ مجذوب بھی کبھی کسی کو نظر نہیں آیا۔ 




صوتی اثرات۔



طلاق، طلاق، طلاق۔۔۔۔۔۔۔۔


اُس نے ، ہاتھ جوڑے سامنے کھڑی بیوی کو چیخ کر کہا۔


تڑاخ، تڑاخ، تڑاخ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


ماں کی اوٹ میں کھڑے ، بلوری بلوری آنکھوں اور گلابی گالوں والے تینوں بچوں نے سنا 



اور اپنا بچپنا فرش پر پھینک کرکمرے سے باہر بھاگ گئے۔

خود سپردگی۔


شادی ہوئے ابھی دن ہی کتنے گزرے تھے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اور پھر جھجک، حیاء ، ڈر۔۔۔۔ 

ہر رات وہ اُسے ایک ہی بات سمجھاتا،

خود سپردگی سیکھو،

کامیاب اور خوبصورت ازدواجی زندگی کا ایک ہی راز ہے، اپنے آپ کو اپنے مجازی خدا کے حوالے کر دینا،

مکمل حوالگی،

اس قدر قریبی رشتے میں کیا جھجھک، کیسی شرم و حیا ۔۔۔بے خودی و بے باکی ہونی چاہئیے، 

جب من دے دیا تو پھر تن کا، آگے پیچھے ، اوپر نیچے کا کیا ہوش ، پھر کیسی رکاوٹ ، کاہے کی حد۔۔۔۔

ایک دن تکرار کی دھوپ سے پک کر پھل خود جھولی میں آن گرا۔۔۔۔

اُس نے جی بھر کے من کی بھوک مٹائی۔ بچپن سے جوانی تک دیکھی ہوئی تمام بے آواز فلموں میں خود کو ہیرو رکھوا کر دوبارہ ۔۔۔۔خود سے ڈائریکٹ کیا۔ 

آخر کار ہر فلم میں کہیں نہ کہیں سے "دی اینڈ" لکھا آ ہی جاتا ہے۔

----------------------

وہ سگریٹ سلگا کر ، آنکھیں بند کئے بیڈ کے کنارے لیٹا سوچنے لگا۔۔۔۔۔

یہ تو بہت ہی بے باک ہے، کہیں شادی سے پہلے تو۔۔۔۔

قومی ورثہ۔



بچے نے بستہ صوفے پر پھینکا اور منہ بسور کر ایک طرف بیٹھ گیا۔

 کیا ہوا ، میرے لعل کی طبیعت خراب ہے ۔۔۔۔یا سکول میں دوستوں سے کچھ گڑ بڑ ہو گئی، 

ماں نے اپنے لخت جگر کے بالوں میں ہاتھ پھیرتے ہوئے اُسے سینے سے لگا لیا۔


کلاس میں تقریر کا مقابلہ ہوا، میں نے تقریر کی تو سب کلاس فیلو ہنسنے لگے، ٹیچر نے بھی انھیں کچھ نہیں کہا۔

الٹا مجھے ہی کہنے لگے ، بیٹا ، تمیں تقریر کرنا سیکھنا چاہئے، اپنے آپ کو بہتر کر کے سب دوستوں کو بتا دو کہ تم بھی 

کر سکتے ہو۔

جیسے جاہل طالبعلم ویسے ہی استاد، لیکن چلو گھر میں کچھ مشق کرو۔۔۔۔باپ نے بیٹے کو تسلی دی۔

مجھ سے نہیں ہوتی یہ سب بکواس۔۔۔۔۔۔۔۔۔

میرا دِل کرتا ہے اگلے ہفتے جب ہماری کلاس ٹرپ پر مری جائے گی تو اُس دن میں ان کے ساتھ نہ جاؤں اور خدا کرے، وآپسی پر کسی پہاڑی سے اترتے ہوئے ۔۔۔۔۔ گاڑی کے بریک فیل ہو جائیں۔

ڈسکاؤنٹ۔


آج قریب چھ ماہ بعد وہ ایک بار پھر اُس تاریک سی سڑک پر جا نکلاتھا ۔

عورتیں زیادہ اور مرد تعداد میں کم لگ رہے تھے۔

ایک مارکیٹ کے نیم تاریک سے برآمدے میں کھڑی ایک جیسی دو عورتیں اُسے کچھ مناسب سی لگیں۔

کتنے؟ 

وہ پاس جا کر دھیرے سے بولا۔

پانچ سو پہلی نے جھٹ سے جواب دیا۔

دوسری کچھ اداس سی ہو گئی

حالانکہ اندھیرے میں بھی اُس کا چہرہ قدرے با رونق لگ رہا تھا

اور تم؟

وہ دوسری کی طرف متوجہ ہوا،

اُس کے باریک سے سبز سینڈل میں انگوٹھا انگلیوں کو بھینچتا ہوا نظر آ رہا تھا۔

تین سو!!!

وہ اپنی حیرت نہ چھپا سکا،

میری چھاتیوں میں دودھ ہے!!!

وہ اُس کی حیرت کو نظر انداز کر کے، 

التجائیہ نظروں سے اُس کی آنکھوں میں جھانکتے ہوئے

قدرے توقف سے بولی۔




‏‎Yousaf Aziz Zahid‎‏، ‏‎Afshan Malik‎‏، ‏‎Haider Ali‎‏ اور ‏‏17‏ دیگر‏ نے اسے پسند کیا ہے۔


Qurb E Abbas واہ۔۔۔۔ عنوان نے افسانچے کو کیا ہی معنیٰ دے دیا۔۔۔۔ بہت خوب۔




Shukria Qurb E Abbas bhai, afsaney k shedai to group mein bohat hein dekhtey hein Afsancha parhney waley kitney hein...



Qurb E Abbas افسانہ دائرہ ہوگا، مگر افسانچہ بہت ہی متوازن قسم کی لکیر ہے۔ اور اسکا الگ ہی حسن ہے۔
مجھے تو افسانچے اچھے لگتے ہیں۔ (اگر بامعنیٰ ہوں تو۔)
آپکا یہ افسانچہ پسند آیا۔


Farrukh Nadeem کتنی بھیانک دنیا ہے،،،اچھا لکھا قمر،، مجھے لگا جیسے آخری جملہ تھوڑا بڑا ہو گیا،،،



Iqbal Hasan بہت عمدہ عزیزم ۔ ایک اور اچھی کہانی ۔ بہت با معنی اور مکمل ۔



Arslan Fareed بہت عمدہ جناب،،،ایک معنی خیز تحریر،،جو اس معاشرے پر ایک سوال چھوڑ گئی،،،،،،،



Rehan Saeed افسانچہ اچھا ہے۔ ہمدردی کا ووٹ لازمی تو نہیں، میرا مطلب دھندہ کرنے والیوں کے ہاں بھی تو بچے ہو سکتے ہیں Farrukh Nadeem صاحب ؟



Khatibur Rahman Pervez بہترین افسانچہ کے لئے مبارکباد قبول کریں۔



Afshan Malik ایک بھرپور کہانی لئے ہوئے بہترین افسانچہ قمر صاھب !



Afshan Malik اور اثر انگیز بھی فکر انگیز بھی ......کیا کہنے !!!




Bht umda afsancha....salamat raheiye !




khoob afsaancha hai.... afsaancha ki ek umda misaal !


Abrar Mojeeb ایک بہترین اور گہرا افسانچہ۔



Shahid Jamil Ahmad ہائے ہائے ہائے ! افسانہ کیا ھے ! شیشہ ھے بھائی شیشہ ! ھم انسانوں کے لئے اور ھماری بنائی دنیا کے لئے- پڑہ کر دل گویا قتلے ھو گیا- جیو بھائی قمر سبزواری صاحب !


فرحانہ صادق بہت عمدہ بہت خوب



Nasim Syed اس کو افسانچہ کہون یا نا ول ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اور کیسے تعریف ہو اس اختصار میں جو تفصیلات ہیں ا نکی ۔ لا جواب


Qurb E Abbas خوبصورت افسانچہ ہے۔۔۔۔۔!



Naheed Akhter مکمل اور گہری تکلیف کا احساس دیتا ہوا ۔افسانچہ کی ایک کہانی میں کتنی داستانییں ہوتی ہیں ۔یہ لکھنے والا اور اس کے باطن میں جھانکتا قاری ہی جان سکتا ہے ۔ بہت داااد اور دعائیں


ہائے ہائے ۔! دُکھوں اور اذیتوں کی کیفیات سے مملو ایک مکمل بولتا ہُوا صفحہ جس نے دُنیا میں رہنے والے انسانوں کے مہذب یافتہ ہونے کے دعوے پر زور دار تھپڑ مارا ہے۔۔! ماورائے داد ہے جناب محترم Qamar Sabzwari صاحب حیاک اللہ و سلامات ۔!!



Ashraf Yousafi اففففففف وااااااہ خوبصورت مختصر افسانہ



Nasir Siddiqi اچھا افسانہ ہے۔ صرف یہ سوچ رہا ہوں کہ اسے بینر کی ضرورت ہے یا نہیں؟؟؟؟؟؟؟



Related Posts Plugin for WordPress, Blogger...